اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور آج متوقع ہے، جس میں انتخابی تنازعات اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پیپلز پارٹی پہلے مرحلے کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق اپنے شواہد پیش کرے گی، جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی کوٹلی سمیت مختلف حلقوں میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے اپنے جوابی شواہد پیپلز پارٹی کے حوالے کر چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں انتخابی اعتراضات، پیش کیے گئے شواہد اور سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گی۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وفد میں رانا ثناء اللہ، انجینئر امیر مقام، طارق فاروق اور دیگر رہنما شریک ہوں گے، جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، سید نیئر بخاری سمیت دیگر سینئر رہنما شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مذاکرات کا تیسرا دور بھی بے نتیجہ ختم
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کے دونوں حلقوں میں دوبارہ پولنگ کی پیشکش بھی کر سکتی ہے۔
مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات کو آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو دونوں جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کر سکتی ہیں، جبکہ مذاکرات کے اختتام پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی متوقع ہے۔












