واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)ایران میں ملک گیر احتجاج، مظاہرین کی ہلاکتوں اور بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔
اسی تناظر میں بحرِ ہند میں امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی موجودگی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے ایک بڑے امریکی بحری بیڑے کے ایران کی سمت بڑھنے کا ذکر کیا، خطے میں پہلے سے موجود خدشات کو مزید تقویت دے چکا ہے، اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے طاقت کے استعمال کی نوبت نہیں آئے گی۔
دفاعی مبصرین کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن جدید امریکی بحری طاقت کی علامت ہے۔ یہ جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز امریکی بحریہ کے سب سے بڑے اور خطرناک جنگی پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے، جو بیک وقت فضائی، بحری اور اسٹرٹیجک آپریشنز انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ اس جنگی جہاز نے اپنا خودکار ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھا ہے، تاہم عسکری ذرائع کے مطابق ایسے بحری جہاز مکمل طور پر نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتے۔
اس کے گرد پرواز کرنے والے امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں اور معاون طیاروں کی نقل و حرکت کے ذریعے اس کی ممکنہ لوکیشن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
دفاعی تجزیوں کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن نے 14 جنوری کے بعد مشرقی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب پیش قدمی شروع کی، جبکہ تازہ اندازوں کے مطابق اس کی موجودگی بحیرۂ عمان اور عمانی ساحل کے قریب سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ یہ طیارہ بردار بحری جہاز بحرِ ہند میں داخل ہو چکا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی سلامتی اور استحکام کے مقاصد کے تحت تعینات کیا گیا ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کو 1989 میں امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا اور اس کا نام امریکا کے 16ویں صدر ابراہم لنکن کے نام پر رکھا گیا۔
یہ جہاز تقریباً چھ ہزار اہلکاروں کو اپنے اندر سمو سکتا ہے، اس کی لمبائی 333 میٹر اور چوڑائی 77 میٹر ہے، جبکہ یہ 100 ہزار ٹن سے زائد وزن کے ساتھ 30 ناٹس کی رفتار سے سمندر چیر سکتا ہے۔
یہ طیارہ بردار جہاز اکیلا نہیں بلکہ ایک مکمل اسٹرائیک گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے، جس میں جدید گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہوتے ہیں، جو فضائی دفاع، آبدوزوں کے خلاف جنگ اور میزائل حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاریخی طور پر یو ایس ایس ابراہم لنکن کئی بڑے امریکی عسکری آپریشنز کا حصہ رہ چکا ہے۔ خلیج جنگ، عراق کے خلاف کارروائیاں، اور خلیج فارس و بحیرۂ عمان میں طویل تعیناتیاں اس کے جنگی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
عسکری ماہرین کے مطابق اس جہاز کی خطے میں موجودگی محض دفاعی پیغام نہیں بلکہ ایک واضح اسٹرٹیجک انتباہ ہے، جو ایران سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔












