آئیووا:(پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو اور ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران ایران، قومی سلامتی، معیشت اور آئندہ سیاسی معرکوں سے متعلق ایسے دعوے کیے ہیں جنہوں نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں اہم پوزیشنز کی جانب بڑھ چکا ہے، جس کے بعد ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو مؤثر انداز میں ناکارہ بنا دیا گیا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں کی گئی امریکی فوجی کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئی اور اس کے دوران کسی بھی شہری کی جان ضائع نہیں ہوئی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا کسی جنگ کی طرف نہیں جا رہا بلکہ طاقت کے ذریعے امن کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، جس سے عوام کو براہِ راست ریلیف ملا۔
ان کے مطابق امریکی سرحدیں اب پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہیں اور بڑے پیمانے پر غیرقانونی اور جرائم پیشہ افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو شدید مہنگائی کا بحران ورثے میں ملا تھا، تاہم قلیل مدت میں سخت فیصلوں کے ذریعے مہنگائی کی شرح پر قابو پا لیا گیا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ آج امریکی معیشت دنیا کی سب سے طاقتور اور مستحکم معیشت بن چکی ہے۔سیاسی محاذ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ آئندہ مڈٹرم انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کریں گے۔
ان کے مطابق عوام نے ان کی پالیسیوں کے نتائج دیکھ لیے ہیں اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں۔انہوں نے منی سوٹا میں پیش آنے والے واقعے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس عمل کی نگرانی کریں گے تاکہ کسی قسم کا انصاف سے انحراف نہ ہو۔صدر ٹرمپ نے سابق حکومتوں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہی فیصلوں کے باعث امریکا میں غیرقانونی امیگریشن تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی اور سرحدی نظام تقریباً ناکام ہو چکا تھا، جسے اب درست سمت میں لایا جا چکا ہے۔












