اسلام آباد ( پاک ترک نیوز)
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ملک بھر کی تمام ڈسکوز کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کے زیر التوا کیسز فوری طور پر نمٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہزاروں سولر صارفین کیلئے امید کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے، جو کئی ماہ سے منظوری اور کنکشن کے انتظار میں تھے۔
رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 1355 نیٹ میٹرنگ درخواستیں تاحال زیر التوا ہیں، جس پر نظام کی کارکردگی اور انتظامی معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مختلف علاقوں میں ٹرانسفارمرز کو نیٹ میٹرنگ صارفین کے ساتھ درست طریقے سے ٹیگ نہیں کیا گیا، جس کے باعث متعدد جائز درخواستیں بلاوجہ مسترد ہوتی رہیں۔
حکام نے اعتراف کیا ہے کہ نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ وقت کے اندر شکایات کا ازالہ نہیں کیا جا رہا، جسے انتظامی غفلت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے تمام ڈسکوز کو ہدایت دی ہے کہ یکم جون تک تمام زیر التوا کیسز مکمل طور پر نمٹا دیے جائیں۔
اس معاملے میں سب سے سخت اقدام یہ سامنے آیا ہے کہ ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کی تنخواہیں، بونس اور دیگر مراعات روکنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے، جس کے بعد پاور سیکٹر میں دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
ماہرین اس فیصلے کو پاکستان کے بجلی نظام میں ایک بڑے انتظامی کریک ڈاؤن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اب ڈسکوز کیلئے واضح پیغام ہے کہ یا تو نظام بہتر بنایا جائے یا پھر سخت کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہا جائے۔







