اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان میں سولر توانائی کا انقلاب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند برسوں تک سولر پینلز کی ریکارڈ درآمدات اس شعبے کی تیز رفتار ترقی کی علامت تھیں، تاہم اب تصویر بدل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق سولر مارکیٹ سکڑ نہیں رہی بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں توجہ صرف بجلی پیدا کرنے کے بجائے اسے ذخیرہ کرنے پر مرکوز ہو رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران پاکستان نے 4,574 میگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ مقدار 11,781 میگاواٹ تھی۔ اس طرح درآمدات میں 61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران سولر پینلز کی درآمدی مالیت بھی 1.12 ارب ڈالر سے کم ہو کر 514 ملین ڈالر رہ گئی، جو تقریباً 54 فیصد کمی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کا مطلب یہ نہیں کہ سولر مارکیٹ زوال کا شکار ہے۔ مئی 2026 کے اختتام تک پاکستان میں درآمد کیے گئے سولر پینلز کی مجموعی صلاحیت 55,700 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی ہر ماہ نئے پینلز اب بھی آ رہے ہیں، البتہ ان کی رفتار پہلے جیسی نہیں رہی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2017 میں فی واٹ قیمت تقریباً 38 سینٹ تھی، جو اب کم ہو کر 10 سے 12 سینٹ فی واٹ رہ گئی ہے۔ اس وجہ سے پینلز ایک عام تجارتی مصنوعات بن چکے ہیں اور قیمتوں میں مزید بڑی کمی کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو سولر مارکیٹ کے دوسرے مرحلے کی واضح علامت سمجھی جا رہی ہیں۔ مالی سال 2023 میں بیٹریوں کی درآمدات صرف 42 ملین ڈالر تھیں، جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 280 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ہونے والی درآمدات پورے سال کی درآمدات کا تقریباً 50 فیصد تھیں، جو اس شعبے میں تیز رفتار دلچسپی کو ظاہر کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سولر مارکیٹ کے پہلے مرحلے میں صارفین کا مقصد مہنگی گرڈ بجلی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سولر پینلز لگانا تھا، جبکہ اب رجحان اس جانب بڑھ رہا ہے کہ دن میں پیدا ہونے والی بجلی کو بیٹریوں میں محفوظ کیا جائے تاکہ رات کے وقت بھی گرڈ پر انحصار کم سے کم رہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2 کروڑ 70 لاکھ آبادی والا ملک سولر توانائی میں نمبر ون
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2025 کے اختتام تک پاکستان میں درآمد کیے گئے سولر پینلز کی مجموعی صلاحیت تقریباً 47,200 میگاواٹ تھی، لیکن نیٹ میٹرنگ کے تحت باضابطہ طور پر رجسٹرڈ صلاحیت صرف 6,485 میگاواٹ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 86 فیصد سولر سسٹمز نیٹ میٹرنگ کے نظام کا حصہ نہیں بنے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد ایسے گھریلو، صنعتی اور تجارتی سولر سسٹمز پر مشتمل ہے جو بیٹریوں اور ہائبرڈ انورٹرز کے ذریعے اپنی پیدا کردہ بجلی خود استعمال کرتے ہیں، یا ایسے علاقوں میں نصب ہیں جہاں نیٹ میٹرنگ کی سہولت دستیاب نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی کا سفر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر پہلے سوال یہ تھا کہ کتنے لوگ سولر لگا سکتے ہیں؟ تو اب اصل سوال یہ ہے کہ "کتنے لوگ اپنی پیدا کی گئی بجلی کو ذخیرہ کر سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں پاکستان کی سولر مارکیٹ میں سب سے بڑی مسابقت سولر پینلز کے بجائے بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کے شعبے میں متوقع ہے، کیونکہ مستقبل کی توانائی صرف سورج نکلنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سورج غروب ہونے کے بعد بھی استعمال کی جا سکے گی۔












