تہران ( پاک ترک نیوز) جنگ بندی کی عالمی کوششوں کے باوجود امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں یران کی طرف سے بھی بھرپور جوابی کارروائیاں کی جا رہی ہیں ۔ کیا دنیا ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟
امریکا نے ایران پر ایک اور بڑا حملہ کیا ہے ، ،اصفہان میں گولہ بارود کے بڑے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،امریکی حکام نے کہا کہ اصفہان میں 2000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے۔۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں دھماکے سنے گئے ،کئی علاقوں کی بجلی بند ہو گئی۔
پاسداران انقلاب کی طرف سے خطے میں اسرائیل اور امریکی تنصیبات پر حملے کیے گئے ، پانچ فوجی اڈوں ،کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز،پائلٹوں کی کمین گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ، تل ابیب،خلیج حیفہ اور دیگر مقامات پر حملے کیے گئے ،،ایران نے دبئی پورٹ پر بڑے آئل ٹینکر پر حملہ کیا ہے جس کے بعد آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی ، کویت نے انتباہ کیا ہے کہ متاثرہ آئل ٹینکر سے اردگرد کے پانیوں میں تیل کا اخراج ہوسکتا ہے
اسرائیل کا کہنا ہے وہ ایران کے خطرناک عزائم کو روکنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کھولے بغیر ہی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، ، ٹرمپ نے اپنےمشیروں کوبھی بتادیا ہے ،امریکی صدر آبنائے ہُرمز کھولنے کا پیچیدہ آپریشن بعد میں کرنا چاہتے ہیں، اس سے قبل، امریکی صدر نے آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کے تمام پاور ہاؤس تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
دوسری طرف ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے ایران نےامریکا کی کچھ تجاویز پر اتفاق کرلیا ہے ، ایران کےساتھ مذاکرات جاری، اچھی پیشرفت ہورہی ہے،امریکی صدرایران معاہدہ 6 اپریل کی ڈیڈلائن سے پہلے کرنا چاہتے ہیں، ایران میں فوج اُتارنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
عالمی برادری بھی جنگ بندی کے لیے سرگرم ہے،پاکستان ، اقوام متحدہ اور مختلف ممالک کی جانب سے فوری سیز فائر کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں… سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک اور بڑی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟












