راولپنڈی ( پاک ترک نیوز) فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر کے ہاتھوں بلیک میل کیے جانے والے دہشت گرد ارمان بلوچ نے کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ اور دیگر عسکری تنظیموں سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا
ارمان بلوچ نے بتایا کہ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ روزگار کی تلاش میں ایران گیا تھا، جہاں اسے مبینہ طور پر اغوا کرکے پہاڑوں پر منتقل کیا گیا۔ اس نے کہا کہ وہاں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈر قمر بروہی سے ملاقات کے بعد وہ تنظیم میں شامل ہوا۔
اس کے مطابق وہ چھ ماہ تک تنظیم کے ساتھ رہا، عسکری تربیت حاصل کی اور تمپ اور بلیدہ میں دو حملوں میں شریک رہا۔ ارمان بلوچ نے مزید کہا کہ بعد میں اسے احساس ہوا کہ یہ راستہ غلط ہے، تاہم تنظیم چھوڑ کر گھر واپس جانے کی خواہش ظاہر کرنے پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی کی موت معمہ بن گئی، والد نے تحقیقات پر سنگین سوالات اٹھا دیے
ارمان بلوچ نے کہا کہ وہ آئندہ کبھی کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوگا اور ریاستی اداروں سے معافی کا طلبگار ہے۔بلوچستان کے نوجوان دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈے اور جھوٹے وعدوں کے دھوکے میں نہ آئیں، اپنے ملک سے وفادار رہیں اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔












