لاہور( پاک ترک نیوز) چینی نہ آئی… مگر گھر میں قیامت آ گئی۔ سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہا چند قدم دور دکان پر گئی تھی، مگر واپس نہ لوٹ سکی۔ اس کی معصوم ہنسی خاموش ہو گئی، لیکن ایک سوال آج بھی زندہ ہے آخر ہماری بچیاں کب محفوظ ہوں گی؟
یہ سرگودھا کی ایک عام سی صبح تھی۔ گھر میں چائے بن رہی تھی، ماں نے روز کی طرح اپنی ننھی بیٹی منتہا کو قریبی دکان سے چینی لانے بھیجا۔ چند قدم کا فاصلہ تھا، گلی محلے کے لوگ جان پہچان کے تھے، اس لیے کسی کے دل میں خوف نہ تھا۔
مگر وقت گزرتا گیا… آدھا گھنٹہ بیت گیا… پھر ایک گھنٹہ… اور منتہا واپس نہ آئی۔ماں کی بے چینی بڑھنے لگی، باپ کے قدم تیز ہو گئے، رشتہ داروں کو فون کیے گئے، گلیاں چھانی گئیں، دروازے کھٹکھٹائے گئے، مگر منتہا کہیں نہ ملی۔
پھر سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی۔ ننھی منتہا ایک دکان کے اندر جاتی دکھائی دی… لیکن باہر آتی نظر نہ آئی۔یہ منظر دیکھ کر والدین کے دل دہل گئے۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جب دکان اور اس کے اوپر بنے کمرے کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے وہ منظر ملا جس نے ہر آنکھ اشکبار کر دی۔معصوم منتہا زندگی کی جنگ ہار چکی تھی۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ جب وہ چیخنے لگی تو اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی۔ایک ایسی بچی، جو ابھی زندگی کے خواب بھی پورے نہ دیکھ سکی تھی، انسانیت کے بھیس میں چھپے درندے کی سفاکیت کا شکار بن گئی۔
واقعے کے بعد مرکزی ملزم فرار ہو گیا، مگر سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید تفتیشی طریقوں کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس تک پہنچ گئے۔ پھر اسے پولیس مقابلے میں مار دیا گیا پولیس کے مطابق دیگر تین ملزمان گرفتار ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک ملزم کے مرنے سے منتہا واپس آ جائے گی؟ کیا اس ماں کی گود دوبارہ آباد ہو جائے گی جو ہر آنے والی عورت کو صرف ایک نصیحت کرتی ہے… اپنے بچوں کا خیال رکھنا… یہ معاشرہ اب محفوظ نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں مقتولہ بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، زیادتی کی تصدیق
منتہا کی تدفین ہو چکی، شہر اپنی رفتار سے چل پڑا، بازار پھر آباد ہو گئے، گلیوں میں پھر شور ہے، لیکن ایک گھر ایسا بھی ہے جہاں آج بھی سناٹا بولتا ہے، جہاں ایک ماں دروازے کی طرف دیکھتی ہے جیسے ابھی اس کی بیٹی چینی کا تھیلا ہاتھ میں لیے مسکراتی ہوئی اندر داخل ہو جائے گی۔
منتہا اب اس دنیا میں نہیں، لیکن اس کی کہانی ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ جب تک ہماری گلیاں، بازار اور محلے بچوں کے لیے محفوظ نہیں ہوتے، تب تک ہر ماں کا خوف اور ہر باپ کی بے بسی زندہ رہے گی۔ منتہا چلی گئی، مگر اس کا نام ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ معصوم بچوں کا تحفظ صرف خاندان نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔









