اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے آج ہی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ سماعت کے موقع پر بھی بانی پی ٹی آئی کو اسپتال میں ہی رکھا جائے اور علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب نہیں ہونی چاہیے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کو ہفتے میں ایک دن ملاقات کی اجازت دینے کا بھی حکم دیا گیا۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ نجی اسپتال کے اخراجات کون برداشت کرے گا اور علاج کی رپورٹس پبلک نہ ہونے کی ضمانت کون دے گا؟
جسٹس شاہد وحید نے یہ بھی استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے۔
عدالت میں سلمان اکرم راجہ اور شاہد خٹک نے یقین دہانی کرائی کہ اسپتال کے باہر سیاسی سرگرمی نہیں کی جائے گی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گی، میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور بانی پی ٹی آئی کی فیملی کا معاملہ ہے۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت کو بتایا کہ عظمیٰ خان ڈاکٹر ہیں، اس لیے ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس شاہد وحید نے ملاقاتوں کے معاملے پر اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔ ریاست کا کام نہیں کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔
جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔
اس پر جسٹس شاہد وحید نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا، "اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟”
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ، تین سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ اور بچوں سے بات کرانے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش ہونے سے خفیہ نہیں رہے گا، اس لیے اس معاملے پر بھی تحفظات ہیں۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے علاج، میڈیکل رپورٹس، اہلخانہ سے ملاقاتوں اور اسپتال منتقلی سے متعلق تمام امور پر واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے علاج کے عمل کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھنے پر زور دیا۔












