کرک(پاک ترک نیوز ) تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک سے چل پڑا،۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کرک سے روانگی کے موقع پر جیل چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرک کے غیور عوام اور پورے ساؤتھ ریجن کی جانب سے استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام کے علم میں ہونا چاہیے کہ خیبرپختونخوا پر جو دہشت گردی مسلط کی گئی، وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی۔ ایک بار پھر پختونوں کا خون بہہ رہا ہے، لوگ بے گھر اور کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملے ہو رہے ہیں، بے گناہ عوام، پولیس اہلکار اور فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ناسمجھی ہے تو وہ یہ ناسمجھی بار بار کریں گے، اور اگر ملک سے محبت ناسمجھی ہے تو وہ بھی یہ ناسمجھی بار بار کریں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا حکومت کو بھی غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ عمران خان کے کھلاڑی ہیں اور طاقتوروں کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پر مسلط ایک مائنڈ سیٹ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے اور غلط پالیسی پر دوسری غلط پالیسی مسلط کرکے صوبے کو الگ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلہ سازوں نے ملک پر ایسی پارٹی مسلط کی ہے جس کی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک وہ اور ان کی نسلیں زندہ ہیں، ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ پورے پاکستان کا ایک ہی لیڈر ہے جس کا نام عمران احمد خان نیازی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں اور 90 فیصد لوگ انہیں چاہتے ہیں۔ عمران خان ہی ملک کو دلدل سے نکال سکتے اور اداروں کی عزت و وقار بحال کرا سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ شہید ہونے والے فوجی جوان ملک اور قوم کے لیے قربانیاں دیتے ہیں اور وہ ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پورے ملک میں موجودہ سسٹم کے خلاف نفرت دیکھ رہے ہیں اور خیبر سے کراچی تک ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان کے جمہوری مطالبات ماننا ہوں گے اور پاکستان میں وہی پالیسی بنے گی جو عوام کے حق میں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر ایسی پالیسی کے خلاف ہیں جو عوام کے مفاد میں نہ ہو۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان دلیری سے جیل کاٹ رہے ہیں، اگر انہیں اقتدار کی لالچ ہوتی تو ایک دستخط کرکے باہر آجاتے، لیکن وہ نہیں جھکے۔ حقیقی آزادی کی جنگ عمران خان کے ساتھ لڑنی ہے اور عمران خان و ان کا خاندان عوام اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لیے قربانیاں دے رہا ہے۔
انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد عدالتیں ’چٹ‘ کا انتظار کرتی ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کارکنوں سے کہا کہ عمران خان ان کا انتظار کر رہے ہیں اور فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ غلامی قبول کرنی ہے یا حقیقی آزادی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کونے کونے سے صوابی پہنچیں، جہاں آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔












