کوپن ہیگن (پاک ترک نیوز)ڈنمارک نے امریکا کو سخت اور غیر معمولی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گرین لینڈ پر کسی بھی قسم کا فوجی حملہ کیا گیا تو ڈینش فوج بغیر کسی حکم کا انتظار کیے فوراً فائر کھول دے گی۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کے مستقبل اور ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق سخت بیانات عالمی سطح پر تشویش پیدا کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈنمارک کے وزیر دفاع نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے اندر ایک خودمختار علاقہ ہے اور اس کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی غیر ملکی طاقت نے گرین لینڈ کی سرزمین کی خلاف ورزی کی تو فوج کو فوری جوابی کارروائی کا اختیار حاصل ہے، اور اس کے لیے کسی سیاسی یا عسکری قیادت کے احکامات کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔
ڈنمارک کی وزارت دفاع کے مطابق یہ اختیار 1952 کے ایک خفیہ عسکری حکم کے تحت دیا گیا ہے، جو سرد جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا۔ اس حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر دشمن حملہ کرے تو فوجی یونٹس اعلانِ جنگ یا مرکزی احکامات کے بغیر ہی لڑائی شروع کر سکتے ہیں۔
یہ حکم 1940 میں نازی جرمنی کے اچانک حملے کے تلخ تجربے کے بعد نافذ کیا گیا تھا، جب مواصلاتی نظام تباہ ہونے کے باعث فوج کو واضح ہدایات نہیں مل سکی تھیں۔ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی امریکا کے ممکنہ عزائم پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے کسی دوسرے نیٹو ملک پر حملہ کیا تو نیٹو اتحاد کی بنیادیں ہل جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کو کرنے کا حق حاصل ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ امریکا گرین لینڈ پر قبضے کے لیے فوجی آپشن پر بھی غور کر سکتا ہے، جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ڈنمارک سے مذاکرات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
صورتحال نے یورپ اور امریکا کے تعلقات میں ایک نیا اور خطرناک تناؤ پیدا کر دیا ہے، جس کے عالمی اثرات بعید از قیاس نہیں۔












