ماسکو(پاک ترک نیوز ) روسی بحریہ کا جوہری توانائی سے چلنے والا کیروف کلاس میزائل کروزر "ایڈمرل ناخیموف” تقریباً 29 برس بعد جدید کاری اور طویل مرمت کے عمل کے بعد پہلی بار اپنے ہوم بیس سیورومورسک پہنچ گیا ہے، جہاں وہ اپنے آخری بحری آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے۔
روسی حکام کے مطابق 26 جون کو جنگی جہاز کی واپسی کی تصدیق کی گئی، جو روسی بحریہ کی جدید کاری کے منصوبے میں گزشتہ کئی دہائیوں کی اہم ترین پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس جنگی جہاز کو جولائی 2025 میں دوبارہ پانی میں اتارا گیا تھا، جبکہ اگست 2025 میں اس نے تقریباً 28 برس بعد پہلی مرتبہ اپنی طاقت سے سمندر میں سفر کیا۔
ماہرین دفاع کے مطابق ایڈمرل ناخیموف کی جدید کاری اتنی وسیع پیمانے پر کی گئی ہے کہ اسے اندرونی طور پر تقریباً ایک نیا جنگی جہاز تصور کیا جا رہا ہے۔ اس میں نصب پرانے میزائل نظام مکمل طور پر تبدیل کر دیے گئے ہیں اور اب یہ 176 عمودی لانچ سیلز کے ذریعے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز اور فضائی دفاعی میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو دنیا کے کسی بھی جدید جنگی بحری جہاز سے زیادہ ہے۔
اس کے مقابلے میں امریکی بحریہ کے آرلی برک فلائٹ تھری کلاس ڈسٹرائر میں 96 جبکہ چین کے جدید ٹائپ 055 ڈسٹرائر میں 112 عمودی میزائل لانچ سیلز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برکینا فاسو کی سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس سے سفارتی تعلقات ختم
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید کاری کے بعد ایڈمرل ناخیموف روس کا واحد سطحی جنگی جہاز بن گیا ہے جو امریکی اور مشرقی ایشیا کے جدید ترین جنگی بحری جہازوں کے ہم پلہ صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم بعض دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے ریڈار اور ڈیٹا لنک سسٹمز چین اور امریکہ کے جدید ترین جنگی جہازوں کے مقابلے میں نسبتاً کم جدید ہیں، جبکہ اس میں اسٹیلتھ ڈیزائن بھی موجود نہیں، جس کی وجہ سے اسے دور سے شناخت کرنا نسبتاً آسان ہے۔
اس وقت جنگی جہاز بحیرہ وائٹ اور بحیرہ بارینٹس میں آخری آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے، جہاں اس کے انجن، نیویگیشن، ریڈار، مواصلاتی نظام، ہتھیاروں اور طویل آپریشنل صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔












