ماسکو(پاک ترک نیوز ) سرد جنگ کے دوران سوویت یونین نے ایک ایسی دیو ہیکل جوہری آبدوز تیار کی جس کا بنیادی مقصد امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جنگی گروپوں کو تباہ کرنا تھا۔
یہ آبدوز تقریباً 24 ہزار ٹن وزن، دو جوہری ری ایکٹرز اور 24 سپرسانک پی-700 گرانِٹ کروز میزائلوں سے لیس تھی۔ ان میزائلوں میں بعض جوہری وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے، جبکہ آبدوز مختلف اقسام کے ٹارپیڈوز سے بھی مسلح تھی۔
فوجی ماہرین کے مطابق آسکر کلاس آبدوزوں کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا کہ وہ دور دراز سمندری علاقوں سے ایک ہی وقت میں میزائلوں کی بارش کر کے نیٹو اور خصوصاً امریکی طیارہ بردار جہازوں کے دفاعی نظام کو ناکام بنا سکیں۔
یہ آبدوزیں سوویت بحریہ کے اہم ترین ہتھیاروں میں شمار ہوتی تھیں اور ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکی بحری قوت کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لیے تیار کی گئی تھیں۔
اس کلاس کی سب سے مشہور آبدوز کرسک تھی، جو اگست 2000 میں بحیرہ بارنٹس میں ایک فوجی مشق کے دوران ٹارپیڈو دھماکے کے باعث تباہ ہوگئی تھی۔ اس حادثے میں آبدوز پر سوار تمام 118 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنائی گئی کرسک اپنے پورے عملی دور میں کبھی دشمن کے خلاف اپنے مہلک ہتھیار استعمال نہ کر سکی اور ایک حادثے کا شکار ہو کر تاریخ کا حصہ بن گئی۔
سرد جنگ کے خاتمے کے باوجود آسکر کلاس آبدوزیں آج بھی دنیا کی طاقتور ترین میزائل بردار آبدوزوں میں شمار کی جاتی ہیں اور روسی بحریہ کے اسٹریٹجک اثاثوں کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔











