واشنگٹن(پاک ترک نیوز ) امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جم ٹائیکلیٹ نے کہا ہے کہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی تیاری کے لیے نیا معاہداتی فریم ورک آئندہ 10 برس کے دوران امریکا کو 850 طیاروں کی فراہمی کی راہ ہموار کرے گا، جبکہ اتحادی ممالک کے آرڈرز سے مجموعی پیداوار سالانہ 156 طیاروں تک پہنچ سکتی ہے۔
کمپنی کے سربراہ کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف طیاروں کی تیاری بلکہ ان کی دیکھ بھال، مرمت اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے عمل کو بھی طویل مدتی بنیادوں پر استحکام ملے گا۔
جم ٹائیکلیٹ نے 22 اکتوبر کو کمپنی کی مالی کارکردگی سے متعلق گفتگو میں بتایا کہ طویل مدتی منصوبہ بندی سے کمپنی اور اس کے پرزے فراہم کرنے والے اداروں کو سرمایہ کاری، افرادی قوت میں اضافے اور جدید آلات کی خریداری کے لیے اعتماد ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف 35 طیارے کی تیاری میں 60 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ مختلف سپلائرز کا ہوتا ہے، اس لیے ان کی کارکردگی طیارے کی مجموعی لاگت اور بروقت تیاری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت پیداواری عمل میں بہتری لانے والی کمپنیوں کو اس کے مالی فوائد بھی حاصل ہوں گے، جبکہ قیمتوں میں ردوبدل ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔ اس اقدام سے پیداواری لاگت، تاخیر اور ناقص پرزوں سے متعلق مسائل کم کرنے میں مدد ملے گی۔
لاک ہیڈ مارٹن کے چیف فنانشل آفیسر ایون اسکاٹ کے مطابق ایف 35 طیاروں کی بہتر پیداواری کارکردگی آئندہ 10 سالہ معاہدے کی بنیاد فراہم کر رہی ہے، جبکہ طیاروں کی دیکھ بھال سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف 35 کی تیاری کے بیسویں مرحلے کے لیے پیشگی مالی معاونت پہلے ہی جاری ہے، تاہم کمپنی کی موجودہ مالی پیش گوئی میں 2026 کے اختتام سے قبل نئے معاہدے پر دستخط کو شامل نہیں کیا گیا۔
کمپنی کے حکام کے مطابق بیسویں پیداواری مرحلے کا معاہدہ رواں سال کے اختتام سے پہلے طے پانے کی صورت میں مالی نتائج توقعات سے بہتر ہو سکتے ہیں، تاہم اگلے پیداواری معاہدے کے اعلان کی توقع اب 2027 تک منتقل کر دی گئی ہے۔











