نیویارک (پاک ترک نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے ایک بڑے فیصلے کا عندیہ دے دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کو تباہ کیا جائے یا دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، تہران خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کو فروغ دیتا رہا ہے، تاہم اب ایران کی طاقت پہلے جیسی نہیں رہی۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے اور انہوں نے ایران میں مہنگائی کے حوالے سے 300 فیصد کا دعویٰ بھی کیا۔ یہ اعداد و شمار ٹرمپ کے اپنے دعوے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش کی لیکن تہران نے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکا کی معاشی اور عسکری طاقت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، امریکی سرحدیں زیادہ محفوظ ہیں اور امریکا میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے وہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل یقینی بنائی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اگست میں بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکی تحفظ میں تقریباً ایک ہزار چار سو پچاس تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور تقریباً 75 کروڑ بیرل خام تیل منتقل ہوا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا بھی ذکر کیا اور اسے اپنی سفارتی کامیابیوں میں شمار کیا۔
امریکی صدر نے عالمی اداروں خصوصاً عالمی فوجداری عدالت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر اختیار حاصل نہیں اور امریکا اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے عدالت کے رکن ممالک سے اس ادارے سے علیحدگی اختیار کرنے کی اپیل بھی کی۔












