
از: سہیل شہریار
امریکہ میں حکومتی شٹ ڈاؤن کوآج آٹھوں دن ہے۔ مگرملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کے رہنماؤںکے اپنے مؤقف سےپیچھے ہٹنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔جس سے امریکی حکومتی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو گئی ہیں۔
امریکہ میں بدھ کے روز امریکی سینیٹ کے اکثریتی ریپبلکن رہنما جان تھون نے سینیٹ کے فلور پر گفتگو کے آغاز میں الزام عائدکرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس نے جو گڑبڑ پیدا کی ہے اس سے نکلنے کا صرف ایک ہی قابل عمل راستہ ہے اور وہ ہے 21 نومبر تک فنڈنگ میں توسیع کے لیے حکومتی پارٹی کےبل کو پاس کرنا۔ہم ڈیموکریٹس سے کسی بھی ریپبلکن پالیسی کی حمایت کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے ہیں۔ہم صرف ان سے حکومت کے ہاتھ دوبارہ کھولنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ یہ اتنا آسان ہے۔”
https://www.youtube.com/watch?v=Wv0dwas3nKY
تاہم اپنے جواب میںسینیٹ میں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر چک شومر نے اپنی پارٹی کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس صحت کی دیکھ بھال پر مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں۔جس کے ساتھ شٹ ڈاؤن پر بھی بات ہوگی۔ چنانچہ ڈیموکریٹس مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ہم ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس کے ریپبلکنز سے بھی ایسا ہی کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
امریکہ کی سیاست میں حکومتی شٹ ڈاؤن، فنڈزکی عدم دستیابی کی اس مدت کو کہتے ہیں جو وفاقی حکومت کے کاموں اور ایجنسیوں کے مکمل یا جزوی طور پر بند ہونے کا سبب بنتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کانگریس اپنے اگلے مالی سال کے لیے حکومت کو مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے فنڈنگ کی قانون سازی یا عارضی فنڈنگ کی اجازت دینے میں ناکام رہتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ کم ترقیافتہ اور غریب ملکوں کی طرح امریکہ میں بھی حکومتی شٹ ڈاؤن سے ملازمین کی تنخواہیں تو رک جاتی ہیں۔ لیکن اس کا صدر اور کانگریس کے اراکین پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق آئین موجودہ صدر کی تنخواہ میں کمی سے منع کرتا ہے۔چنانچہ صدر کو کسی بھی شٹ ڈاؤن کارروائی سے قطع نظر معاوضے کی ضمانت دیتا ہے۔اسی طرح کانگریس کے ممبران فرلو کے تابع نہیں ہیں اور آئین کہتا ہے کہ کانگریس کے ممبران کو ان کی خدمات کا معاوضہ ہر حال میں ملےگا۔تاہم بہت سے قانون سازوں نے سرکاری ملازمین سے اظہار یک جہتی کے لئے محکمہ خزانہ کو خط بھیجے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے دوران ان کی تنخواہ روک دی جائے۔
سرکاری ملازمین کی شٹ ڈاؤن کے دورانیہ کی تنخواہوں کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت انہیں شٹ ڈاؤن کے عرصہ کی تنخواہ یعنی بیک پے نہیں دی جائے گی ۔مگرحکومتی مؤقف کے متضاد اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی اور امریکن فیڈریشن آف گورنمنٹ ایمپلائیز کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے دوران حکومت ملازمین کو بیک پےدینے کی پابند ہے ۔اور اس ضمن میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ قانون پر عمل کریں گے۔صدر نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے شٹ ڈاؤن لڑائی "شروع” کی ہے۔اپوزیشن جماعت ایسے جارحانہ ہتھکنڈے اس لئے اپنا رہی ہے کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔انہون نے مزید کہا کہ ڈیموکریٹس کا شٹ ڈاؤن پر معاہدہ نہ کرناایک کامیکاز ے حملے کی طرح ہے۔












