لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ کی سیاست میں بڑا دھماکہ، حکمراں لیبر پارٹی کے اندر بغاوت کھل کر سامنے آگئی۔۔۔ وزیرِ صحت نے بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔۔۔ پارٹی کے اندر اختلافات، بلدیاتی انتخابات میں شکست اور بڑھتی عوامی ناراضی نے برطانوی وزیراعظم کی کرسی ہلا دی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کیئر اسٹارمر اپنی ہی جماعت کے دباؤ کا مقابلہ کر پائیں گے یا برطانیہ ایک نئے سیاسی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟
برطانیہ میں حکمراں جماعت لیبر پارٹی اس وقت شدید اندرونی بحران کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔۔۔ وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ کا استعفیٰ صرف ایک وزارت چھوڑنے کا معاملہ نہیں بلکہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت کے خلاف کھلا سیاسی اعلان سمجھا جا رہا ہے۔
ویس اسٹریٹنگ نے اپنے استعفے میں واضح طور پر کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی ناکامی کی بڑی وجہ وزیراعظم کی غیر مقبول قیادت ہے۔۔۔ ان کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر اب صرف پالیسی اختلافات نہیں بلکہ قیادت پر اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔
برطانوی سیاست میں کسی اہم وزیر کا اپنی ہی حکومت کے سربراہ پر براہ راست عدم اعتماد ظاہر کرنا غیرمعمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔۔۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب لیبر پارٹی عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے کے باوجود عوامی دباؤ، معاشی مسائل اور سیاسی توقعات کا سامنا کر رہی ہے۔
اسی بحران کے دوران لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جوش سیمسنز کا اپنی نشست چھوڑنے کا اعلان بھی انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔۔۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قدم دراصل گریٹر مانچسٹر کے مقبول میئر اینڈی برنہام کو دوبارہ قومی سیاست میں لانے کی کوشش ہے تاکہ وہ مستقبل میں پارٹی قیادت کیلئے مضبوط امیدوار بن سکیں۔
پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک چار جونیئر وزرا استعفیٰ دے چکے ہیں جبکہ اسی سے زائد لیبر ارکان پارلیمنٹ وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے استعفیٰ یا اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحران صرف شخصیات کا نہیں بلکہ حکمت عملی کا بھی ہے۔ لیبر پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو فوری معاشی ریلیف دینے میں ناکام دکھائی دی۔ مہنگائی، ٹیکس، صحت کے نظام اور عوامی خدمات سے متعلق وعدے توقعات کے مطابق پورے نہیں ہو سکے، جس کے باعث پارٹی کی مقبولیت متاثر ہوئی۔
دوسری طرف وزیراعظم کیئر اسٹارمر فوری طور پر پسپائی اختیار کرتے دکھائی نہیں دیتے۔۔۔ ان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہو رہے اور ان کی توجہ حکومت چلانے پر مرکوز ہے۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹارمر کو اب بھی کابینہ کے بعض اہم وزرا اور تقریباً سو ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔
لیکن سیاسی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی حکمراں جماعت میں قیادت پر سوالات کھل کر سامنے آنے لگیں تو بحران صرف پارلیمنٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ حکومت کی ساکھ اور پالیسی سازی بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر پارٹی کے اندر اختلافات مزید بڑھے تو لیبر پارٹی کو دو بڑے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔۔۔ ایک، قبل از وقت قیادت کی تبدیلی۔۔۔ دوسرا، عوامی اعتماد میں مزید کمی، جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتیں اٹھا سکتی ہیں۔
برطانیہ کی سیاست میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آیا کیئر اسٹارمر اپنی جماعت کو متحد رکھ پائیں گے یا لیبر پارٹی اندرونی تقسیم کا شکار ہو کر ایک نئے سیاسی بحران میں داخل ہو جائے گی۔
لیبر پارٹی کے اندر اٹھنے والی بغاوت نے برطانوی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔۔۔ ایک طرف وزیراعظم کیئر اسٹارمر اپنی حکومت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب پارٹی کے اندر متبادل قیادت کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔۔۔ آنے والے دن صرف لیبر پارٹی ہی نہیں بلکہ برطانیہ کی سیاسی سمت کیلئے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔












