اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہےکہ کسی جرم میں سزا الزام اور ثابت شدہ بدانتظامی کے مطابق ہونی چاہیئے،عدالتنے سرکاری محکمے میں کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا
آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا عدالتیں اور ٹربیونلز سزا کے متناسب یا غیر متناسب ہونے کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ سزا سخت ہے، سزا میں کمی کی ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی،سزا میں تبدیلی سے قبل الزامات، شواہد اور انکوائری رپورٹ کا جائزہ ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیاثابت شدہ بدانتظامی پر سزا کا تعین کرنا متعلقہ محکمہ کا اختیار ہے، طویل ملازمت سزا میں نرمی کا خودکار جواز نہیں بن سکتی، عوامی رقم میں فراڈ اور خردبرد کے مقدمات میں غیر ضروری نرمی نہیں برتی جا سکتی۔
سپریم کورٹ نے پی ایل آئی لاہور کینٹ میں کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ کیس میں فیصلہ جاری کیا۔محکمانہ انکوائری میں افسر محمد فیاض پر جعلی قرضوں اور جعلی شیڈولز کی منظوری کے الزامات ثابت ہوئے۔متعلقہ محکمے نے محمد فیاض کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا
وفاقی سروس ٹربیونل نے برطرفی کی سزا کو جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا تھا۔محکمے نے سزا میں کمی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے کیس دوبارہ سماعت اور فیصلے کے لیے سروس ٹربیونل کو واپس بھجوا دیا۔ٹربیونل کو دونوں انکوائری رپورٹس اور شواہد کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا حکم دیا گیا ہے ،سپریم کورٹ نے ٹربیونل کو تین ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔












