اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس 8 گھنٹے تک جاری رہا، جس میں 70 ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے شرکت کی۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی اور نہ ہی اس پر کوئی بحث ہوئی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے پارٹی قیادت پر متفقہ اعتماد کا اظہار کیا اور قیادت کے کردار کو سراہا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور دونوں اپوزیشن لیڈرز کی قیادت پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ گورنر راج سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا پر بھی غور کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی اس خلا کو پُر کرنے اور ایمرجنسی و گورنر راج کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔بیرسٹر گوہر کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی سفارشات اپوزیشن لیڈرز محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو بھجوا دی گئی ہیں۔ دونوں اپوزیشن لیڈرز کی منظوری کے بعد یہ سفارشات حتمی شکل اختیار کریں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارٹی کا مؤقف پہلے سے واضح ہے۔ متنازع قانون سازی سے گریز کیا جائے، کیونکہ جلد بازی میں قانون سازی سے مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی
صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں اور اس حوالے سے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔












