تہران ( پاک ترک نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کارکنوں کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی کے اقدام کو غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ہمیشہ دہشت گردی کو ناسور قرار دیتی رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کی صوبائی حکومت موجود تھی، تاہم ان کے بقول پارٹی سے اس کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ جاری ہے اور اگر مذاکرات ہونے تھے تو اب تک ہو چکے ہوتے۔ ان کے مطابق اب مذاکرات کے بجائے عملی اقدامات کا وقت ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور دیگر ارکان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ وہ ایسا کوئی بیان نہیں دینا چاہتے جس سے دہشت گردی کے معاملے پر منفی اثر پڑے۔تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی خودمختاری اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ گورنر راج کے لیے صوبائی حکومت کی ناکامی یا اپنے فرائض انجام نہ دینے کی صورت حال کا ہونا لازم ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام فیصلے عدالتوں میں ہوں، بصورت دیگر معاملات سڑکوں پر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین بڑی مشکل سے بنایا گیا تھا اور ماضی میں آئین کی شق 58(2)(ب) کے تحت چار اسمبلیاں توڑی گئیں۔محمود اچکزئی نے کہا کہ ان کی نہ نواز شریف سے دشمنی ہے اور نہ آصف علی زرداری سے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ چار کروڑ عوام کے نمائندے ہیں اور ان کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیرآج ایران کا دورہ کریں گے
انہوں نے فرانس میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے اور آگ بھی لگائی گئی، لیکن ان کے دعوے کے مطابق پولیس نے اب تک ایک گولی نہیں چلائی۔ محمود اچکزئی نے حکومت کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ لڑائی کا آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔اپوزیشن رہنماؤں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر اپنے تحفظات دہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آئینی معاملات کو عدالتوں کے ذریعے حل کیا جائے اور وزیراعلیٰ سمیت دیگر گرفتار یا زیرِ حراست افراد کو رہا کیا جائے۔












