اسلام آباد (پاک ترک نیوز )وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے معدنیات سے متعلق کوئی ٹھیکا یا کان امریکا کے حوالے نہیں کی، اس معاملے پر ابھی صرف بات چیت ہوئی ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان میں قیمتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور کینیڈا، چین، آسٹریلیا اور امریکا سمیت متعدد ممالک ان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک کے ساتھ کام کرے گا جن کے ساتھ اسے تحفظ اور اعتماد حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ان معدنیات کو نکالنا ممکن نہیں۔وزیر دفاع نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق سے تعاون نہیں کر رہی تھی۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جانی نقصان زیادہ ہوا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے بعد صوبائی حکومت کو بھی اپنی عمل داری قائم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، بصورت دیگر دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا منصوبہ پہلے سے موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق تمام دوسرے راستے اختیار کرنے کے بعد یہ آخری آپشن رہ گیا تھا۔ انہوں نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے عوام کے بجائے ایک شخصیت کی سیاست کو ترجیح دے رہے تھے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ نئے انتظامی نظام میں کردار نہ ملنے والے بعض افراد اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں، جس سے ان کے بقول صوبے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی گفتگو کو بھی درست قرار دیا۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو مراد سعید کے کہنے پر وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مراد سعید اور بانی پاکستان تحریک انصاف ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت بننے کے بعد ہونے والے اجلاس میں فوری انتخابات کے انعقاد پر بات ہوئی تھی اور مسلم لیگ ن بھی فوری انتخابات کے حق میں تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک کے بعد شہباز شریف کو خود مشورہ دیا تھا کہ ایک ماہ کے اندر انتخابات کرا دیے جائیں۔انہوں نے مخالفین پر الزام لگایا کہ ان کی سیاست کا محور اقتدار کا حصول ہے اور وہ حکومت ختم ہونے پر اس لیے ناراض ہیں کہ انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے تین شہروں میں خطرے کا الرٹ جاری، کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا
وزیر دفاع نے بانی پی ٹی آئی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کیا بھارت کے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیتے۔ خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ اس بیان کے بعد کیا تحریک انصاف یا جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کو شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور اور مولانا فضل الرحمان کے بطور اپوزیشن لیڈر کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی مختلف جماعتوں کے درمیان سیاسی عہدوں اور حکومت میں شمولیت کے معاملے پر اختلافات رہے ہیں۔












