کراچی( پاک ترک نیوز ) میر رضا علی کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے سندھ حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے، جبکہ پولیس اور محکمہ صحت کے متعدد افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ زون کراچی عرفان علی بلوچ کو جے آئی ٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیم میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سندھ رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے شامل ہوں گے۔
محکمہ داخلہ سندھ نے متعلقہ اداروں کو خط لکھ کر سات روز کے اندر نامزد افسر کا نام، عہدہ اور رابطے کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔میر رضا علی کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں نامزد پولیس افسران اور اہلکاروں کے کردار، کارکردگی اور قائدانہ صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے مختلف سطحوں پر تحقیقات اور محکمانہ اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار علی لاڑک کو ایک رکنی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ کمیٹی کی معاونت کریں گے۔ کمیٹی متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات آئی جی سندھ کو پیش کرے گی۔اس کے علاوہ سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ انکوائری کمیٹی کی سربراہی کے لیے گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا ایف آئی اے افسر نامزد کیا جائے۔ یہ کمیٹی پولیس افسران کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 201، 166(2) اور 218 کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی۔ کمیٹی میں ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ نعیم احمد شیخ بھی شامل ہوں گے۔جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف انکوائری آئی جی سندھ کی جانب سے نامزد افسر کرے گا۔سب انسپکٹر شبیر لغاری کو بھی معطل کر کے ان کے خلاف برطرفی تک کی تادیبی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آر-4 اور آر-4 پلس اجلاسوں کے بعد اسحاق ڈار کی ترک صدر اردوان سے ملاقات
ایس ایچ او کامران قریشی اور انسپکٹر غوث کو بھی معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع ہوگی۔ایس ایچ او کامران قریشی کے کردار کی اس الزام کے تناظر میں تحقیقات کی جائیں گی کہ انہوں نے شواہد ختم کرنے میں سہولت کاری کی۔ دوسری جانب انسپکٹر غوث کے کردار کا جائے وقوعہ کو جلانے کے معاملے میں مزید جائزہ لیا جائے گا۔حکام کے مطابق متعلقہ افسران کے کردار اور ذمہ داریوں کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔میر رضا علی کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں محکمہ صحت سندھ کے بعض افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سندھ حکومت نے اسپیشل سیکریٹری ہیلتھ شہریار میمن کے خلاف انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور سینئر افسر کے ذریعے تحقیقات کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کو درخواست ارسال کر دی گئی ہے۔
سیکریٹری صحت طاہر سانگی کے حوالے سے کمیشن نے قیادت اور نگرانی کے فقدان کی نشاندہی کی ہے۔ ان ریمارکس سے چیف سیکریٹری کے ذریعے انہیں آگاہ کیا جائے گا۔جوڈیشل کمیشن نے محکمہ صحت سندھ کو میڈیکو لیگل ایکٹ کے تحت قواعد و ضوابط تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ میڈیکو لیگل معاملات میں طریقہ کار اور ذمہ داریوں کو واضح کیا جا سکے۔محکمہ داخلہ سندھ نے سیکریٹری صحت کو میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ ڈاکٹر اسامہ شیخ کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔حکام کے مطابق ڈاکٹر اسامہ شیخ کو مزید تربیت کے لیے بھی بھیجا جائے گا۔ یہ اقدامات جوڈیشل کمیشن کی سفارشات اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے فیصلوں کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
میر رضا علی کیس میں سندھ حکومت کے اقدامات کا مقصد جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں سامنے آنے والے معاملات کا جائزہ لینا، متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور محکمانہ نظام میں خامیوں کو دور کرنا ہے۔حکومت نے مختلف کمیٹیوں کو تحقیقات، سفارشات اور متعلقہ افسران کے کردار کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ پولیس اور محکمہ صحت کے افسران کے خلاف کارروائیوں کے حتمی نتائج متعلقہ تحقیقات اور محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔












