بیجنگ ( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں سونے کی ایک نئی دوڑ شروع ہوگئی۔ سپر پاورز خاموشی سے اپنے خزانے بھرنے لگیں، مرکزی بینکوں نے اربوں ڈالر مالیت کا سونا خریدنا شروع کردیا، جبکہ کچھ ممالک اچانک فروخت پر اتر آئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کسی بڑے مالیاتی طوفان کی طرف بڑھ رہی ہے؟ دیکھیے یہ چونکا دینے والی رپورٹ۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ اعداد و شمار نے عالمی معیشت کے اندر چھپی ایک بڑی ہلچل بے نقاب کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے مجموعی طور پر 17 ٹن سونا خریدا، اور سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ پولینڈ اس دوڑ میں سب سے آگے نکل آیا۔
پولینڈ نے صرف ایک ماہ میں 14ٹن سونا خریدا ، جبکہ چین نے بھی خاموشی سے اپنے ذخائر میں 8 ٹن کا اضافہ کردیا۔ماہرین کے مطابق دسمبر 2024 کے بعد یہ چین کی سب سے بڑی خریداری ہے، اور اب چین مسلسل 18 ماہ سے سونا خرید رہا ہے۔
ادھر جمہوریہ چیک نے بھی مسلسل 38ویں ماہ سونا خرید کر دنیا کو حیران کردیا، جبکہ دوسری طرف روس نے اپریل میں 6 ٹن سونا فروخت کردیا۔رپورٹ کے مطابق رواں سال روس اب تک 22 ٹن سونا بیچ چکا ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی حلقوں میں کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کا کہنا ہے کہ مشرقی یورپ اور ایشیا اس وقت سونے کی سب سے بڑی منڈی بن چکے ہیں، جہاں مرکزی بینک مسلسل اپنے ذخائر بڑھا رہے ہیں۔
ازبکستان بھی خاموشی سے اس دوڑ میں شامل ہے، جو رواں سال 24 ٹن سونا خرید چکا ہے، اور اس کے کل ذخائر کا 88 فیصد حصہ صرف سونے پر مشتمل ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک ڈالر پر انحصار کم کرکے سونے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہوسکتا ہے۔سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ 95 فیصد مرکزی بینکوں نے پیشگوئی کی ہے کہ اگلے 12 ماہ میں سونے کے عالمی ذخائر میں مزید اضافہ ہوگا۔












