واشنگٹن (پاک ترک نیوز)تصور کریں۔۔۔ ہزاروں فٹ بلندی پر پرواز کرتا ایک دیوہیکل امریکی بمبار طیارہ۔۔۔ دشمن کا بحری بیڑا سمندر میں موجود ہے، لیکن خطرہ کسی جنگی جہاز سے نہیں، بلکہ آسمان سے آنے والے ایسے میزائل سے ہے جو طویل فاصلے سے ہدف تلاش کر کے حملہ کر سکتا ہے! امریکا اب اپنے مشہور بی 52 بمبار کو جدید، کم نمایاں رہنے والے بحری میزائلوں سے لیس کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مگر اس تبدیلی سے چین کے بحری بیڑے کے لیے خطرات کیوں بڑھ سکتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں!
امریکی فضائی طاقت میں بڑی تبدیلی کی تیاری۔۔۔ بی 52 بمبار طیارے پر نصب ہوں گے اے جی ایم 158 سی ایل آر اے ایس ایم میزائل، جو دشمن کے بڑے بحری جہازوں کو دور سے نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
یہ میزائل محض فاصلے سے حملہ نہیں کرتے، بلکہ ان میں خودکار انداز میں ہدف کی شناخت، راستے کی منصوبہ بندی اور دورانِ پرواز خطرات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کاسپر رافیل کو تیز رفتار میزائلوں سے لیس کرنےکا منصوبہ
اصل سنسنی خیز پہلو اس میزائل کی مار ہے۔۔۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، اس کے بنیادی نمونے کی حد تقریباً 200 سے 300 میل ہے، جبکہ جدید نمونے کی متوقع حد تقریباً 600 میل بتائی جاتی ہے۔ تاہم، میزائل کی درست عملی حد سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
یعنی دشمن کا بحری بیڑا دور سمندر میں موجود ہو، تب بھی اسے نشانہ بنانے کی صلاحیت امریکی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
یہ منصوبہ مکمل ہوا تو امریکی فضائیہ کے تینوں موجودہ تزویراتی بمبار، بی ون، بی ٹو اور بی 52، ایسے میزائل استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ مستقبل کے بی 21 بمبار میں بھی ان کے استعمال کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کے پیچھے بحرالکاہل میں چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت بھی اہم وجہ ہے۔ امریکا طویل فاصلے سے حملے کی صلاحیت بڑھا کر اپنے طیاروں کو دشمن کے مضبوط دفاعی حصار سے دور رکھنے کا خواہاں ہے۔












