
از: سہیل شہریار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک میں منگل کو عرب اور مسلم رہنماؤں کے سامنے ایک منصوبہ پیش کریں گے اور غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے خاتمے اور زیادہ تر تباہ شدہ فلسطینی پٹی کے مستقبل کے بارے میں اپنے تصورپر تبادلہ خیال کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق، ٹرمپ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے موقع پر سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
https://www.youtube.com/watch?v=9ZVLISszf2Y&t=2s
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ مستقبل میں اسرائیلی فوج کس طرح غزہ سے نکل سکتی ہے، وہ کس طرح چاہتے ہیں کہ علاقائی رہنما امن برقرار رکھنے کے لیے فوج بھیجیں، اور کس طرح منتقلی اور تعمیر نو کا عمل شروع ہو سکتا ہے اور اس کے لیے فنڈز فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
مبینہ طور پر غزہ کا منصوبہ اسرائیل کی طرف سے تیار نہیں کیا گیا تھا تاہم نیتن یاہو کو تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مستقبل میں کچھ شمولیت کا بھی امکان ہے۔ جسے اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ وہ برداشت نہیں کرے گا۔تاہم اس منصوبے میں حماس کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ جس کا امریکہ اور اسرائیل نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے غیر مسلح اور ختم کیا جائے۔اسی ضمن میںانڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، جن کی اس اجلاس میں شرکت متوقع ہے نے پیر کو اقوام متحدہ میں فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی دو ریاستی حل پر کانفرنس کو بتایا کہ ان کا ملک غزہ میں امن فوج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم امن کی طرف اس سفر میں اپنا حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم امن فوج فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دریں اثنا سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں پیر کے روز ہونے والی کانفرنس کے دوران ایک بڑی پیش رفت میں فرانس اور اس سے پہلے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جس سے اقوام متحدہ کے رکن ملکوں میں سے فلسطین کو تسلیم کرنے والوں کی تعداد 154ہو گئی ہے۔
https://www.youtube.com/shorts/qBKbMFsRqRA
ادھر صدرٹرمپ کے ایک اتحادی امریکی نشریاتی ادارےنے پیر کے روز انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حماس نے امریکی صدر کو ایک خطبھیجا ہے جس میں ٹرمپ کی ضمانت کے ساتھ 60 دن کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ بقیہ 48 قیدیوں میں سے نصف کی فوری رہائی کی جائے۔ جن میں سے تقریباً 20 قیدی زندہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ خط فی الحال ثالث قطر کے پاس ہے اور اسے ہفتے کے آخر میں ٹرمپ کو دیا جائے گا۔یاد رہے کہ ٹرمپ اور قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی امریکی وقت کے مطابق منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔












