
آر اے شمشاد
کھیل ایک دوسرے کو قریب لانے اورنفرتوں کوکم کرنے کا نام ہے اورکرکٹ کو ویسے بھی جینٹلمین گیم کہا جاتاہے۔ تاہم بھارت ہمیشہ سیاست کو کرکٹ میں لا کر اچھی اقدار کو پامال کرتا آیاہے ۔
اس کی واضح مثالیں انڈیا کی جانب ایشیا کپ کے دوران پاکستان کیخلاف میچز میں ٹاس کے بعد ہاتھ نہ ملانے اور میچ کے بعد مصافحہ کئے بغیر ڈریسنگ روم میں چلے جانا شامل ہیں ۔ اس حوالے سے معتبر حلقو ں کی جانب سے بھارت کے اس رویے کو اچھی اقدار کے منافی قرار دیا گیا ہے وہیں کچھ کرکٹ شائقین نے بھی بھارتی کپتان اورکوچ کو آڑے ہاتھوں بھی لیاہے ۔
https://www.youtube.com/watch?v=mz2XkU6AhPA
جہاں بھار ت کی جانب سے اس ایونٹ میں کھیل کی روح کے منافی اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں نظر آئی ہیں وہیں گزشتہ روز پاکستان اورسری لنکاکے درمیان میچ میں زبر دست سپورٹس مین کا مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا ہے ۔جہاں پاکستانی سپنر ابرار احمد کی جانب سے ہشرنگا کو آئوٹ کرنے کے بعد ان کے ہی انداز میں جشن منایا گیا وہیں بعد میں ہشرنگا نے فخر زمان کا کیچ تھام کر اور صائم ایوب کو بولڈ کرکے ابرار احمد کے جشن منانے کا انداز اپنایا۔
https://www.youtube.com/shorts/NUXjw-4nvvg
میچ کے دوران ایک دوسرے کا انداز اپنانے کے بعد ابرار احمد اور ہشرنگا کی جانب سے ایک دوسرے کو تپاک کے ساتھ گلے ملنے کی ویڈیو میڈیا پر وائرل ہو گئی جسے شائقین کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے ۔
دونوں کھلاڑیوں کی جانب سے زبردست سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں دونوں کھلاڑی نہ صرف خوشدلی سے ایک دوسرے کے گلے ملے بلکہ خوشگوار انداز میں ایک دوسرے کواچھے کھیل پر مبارکباد بھی دی ہے ۔
اسی حوالے سے انٹرنیشنل میڈیا میں اس انداز کو نہ صرف بہت زیادہ سراہا گیا بلکہ بھارتی ٹیم کو بھی ایسے ہی رویے کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے ۔معروف برطانوی نشریاتی ادارے نے ابرار احمد اورہشرنگا کی جانب سے گلے ملنے پر لکھاہے کہ یہی وہ چیز ہے جو انڈین کرکٹ ٹیم کبھی نہیں سیکھ سکتی ۔
اس حوالےسے بی بی سی نے مزید لکھا کہ ابراراحمد ہشرنگا کے رویے پر اس بار سوشل میڈیا پر میدان میں نظر آنے والی مسابقت اور پھر میدان کے باہر کے دوستانہ رویے کی تعریف ہو رہی ہے اور اسے ’سپورٹس مین شپ‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔جس کی امید بھارتی ٹیم سے نہیں کی جا سکتی ہے ۔











