انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو صرف تین ممالک تک محدود رکھنے کا ارادہ نہیں، بلکہ اس میں مزید ممالک کو شامل کرنے کی خواہش ہے۔
ترک صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارا وژن صرف تین ممالک تک محدود نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ وسعت اختیار کرے اور مستقبل میں خطے کے تمام ممالک اس کے دائرہ کار میں شامل ہوں۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مصر اگلے مرحلے میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق مصر کی شمولیت میں صرف چند تکنیکی معاملات رکاوٹ ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ گزشتہ ہفتے ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے میں نیٹو طرز کی شق شامل ہے جس کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
صدر اردوان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے حالات نے علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی اور استحکام کی ذمہ داری خود سنبھالنے پر مجبور کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے مسائل علاقائی ممالک کو خود حل کرنے چاہئیں اور بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کیے گئے فارمولوں کے بجائے علاقائی تعاون کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
57 رکنی تنظیم اسلامی تعاون کے ممالک نے بھی مکہ دفاعی معاہدے کو اہم تزویراتی قدم قرار دیا ہے، جبکہ کویت، بحرین اور صومالیہ سمیت متعدد ممالک نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایران کی جانب سے بھی معاہدے پر نسبتاً مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ تہران نے علاقائی ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی سکیورٹی نظام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف واضح کرچکے ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں 6 ہزار 134 افراد کی شہریت منسوخ
دوسری جانب ترک صدر اردوان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خطے میں افراتفری اور نئے تنازعات سے فائدہ اٹھا کر فلسطین کو عالمی ایجنڈے سے ختم کرنا چاہتی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد اردوان نے کہا کہ فلسطینی مسئلہ ختم نہیں ہوگا اور ترکی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
محمود عباس نے بھی ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں سکیورٹی اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔












