
از: سہیل شہریار
رواں مالی سال 2025-26کے پہلے چار مہینوں میں حکومت پاکستان کے قرضوں کے حجم میں 908ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے جو ملک کے مجموعی قرض کا1.16فیصد بنتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی قرضوں کی مالیت اکتوبر 2025 کے آخر تک کم ہو کر 76.980 کھرب روپےہو گئی ہے جو جون 2025 میں 77.888 کھرب روپےتھی۔
ملک کے مرکزی بنک کے مطابق وفاقی حکومت کے قرض کے حجم میں 908 ارب روپے کی کمی بیرونی اوراندرونی دونوںقرضوں میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ تاہم فیصد کے لحاظ سے کمی کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں سے آیا ہے جس میں 1.72 فیصد کمی واقع ہوئی۔چنانچہ اکتوبر 2025 کے آخر میں بیرونی قرضے سال کے پہلے چار ماہ کے تناظر میں 413 ارب روپے کم ہو کر 23.004 کھرب روپے ہوگئے ۔ جو جون 2025 میں 23.417 کھرب روپے تھے۔ جبکہ یہ کمی اس عرصے کے دوران غیر ملکی فنانسنگ پر کم انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح ملکی سطح پر حکومت نے کامیابی سے اپنے قرضوں میں 1 فیصد یا 496 ارب روپے کی کمی کی ہے۔اندرونی قرضہ اکتوبر 2025 میں کم ہو کر 53.976 کھرب روپے پر آگیا تھا۔ جو جون 2025 میں 54.472 ٹریلین روپے تھا۔ اس کمی کی وجہ تازہ قرض لینے کی رفتار میں کمی اور کچھ موجودہ ذمہ داریوںکا خاتمہ ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قرضوں کے انتظام میں بہتری آئی ہے اور مجموعی طور پر بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اور اسی کے نتیجے میں قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد پر آ گیا ہے۔ پاکستان نے 2022 کے بعد سے اپنے بیرونی قرضوں کے ذخیرے میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ جس سے مسلسل سالانہ اضافے کے طویل رجحان کو توڑا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران ملکی قرضوں میں یہ پہلی بامعنی بہتری ہے۔ جبکہ اس سے قبل 2015 سے 2022 کے درمیان پاکستان کے بیرونی قرضوں میں ہر سال اوسطاً 6.4 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔












