اسلام آباد(پاک ترک نیوز) پاکستان نے او آئی سی کے تنازعات طے کرنے والے فورم اے ڈی آرمیں شرکت اختیار کر لی ہے تاکہ تنظیم کے رکن ملکوں کے ساتھ تجارتی و دیگر تنازعات کو روایتی عدالتوں میں لے جانے سے پہلے ہی باہمی مشاورت اور سفارتی کاری سے حل کیا جا سکے۔پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر لمبی عدالتی کارروائیوں کے بجائے تنازعات کے خاتمے کے متبادل طریقوں کو اختیار کرے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ پاکستان اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان اس طرح کا تعاون بین الاقوامی روابط کو پختہ کرے گا۔اور یہ طریقہ کار ثالثی کے مروجہ بین الاقومی طریقے کے بھی قریب تر ہے۔ان کا یہ بیان پاکستان اور آر بٹریشن سنٹر اور او آئی سی کے درمیان طے پانے والی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعد سامنے آیا ہے۔تنازعات طے کرنے کے متبادل فورم اے ڈی آر تجارت سے متعلق اجتماعی اور انفرادی تنازعات کو حل کرنے کے لئے ایک ایسا میکانزم فراہم کرتا ہے جو بین الاقوامی سطح پرعدالتی چکروں میں الجھنے کی بجائے ثالثی کےذریعےسے تنازعات کا خاتمہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال اور تبت میں سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ، 165 افراد جاں بحق
یہ طریقہ کاربین الاقوامی تجارتی امور میں بطور خاص اہم اور زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ پاکستان اس طریقہ کار کا پھیلاؤ کر رہا ہے۔ تاکہ عدالتوں کے سامنے تنازعے لے جانے سے پہلے ہی طے ہو جائیں۔ حکومت پاکستان کے مطابق اس طرح تنازعات ہفتوں میں اور کم اخراجات کےساتھ طے ہو سکتے ہیں۔مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان اور اے ڈی آر پیشہ ورانہ مہارتوں کا تبادلہ کریں گے۔متعلقہ موضوعات پر معلومات اور مطبوعات کا تبادلہ کریں گے ، نیز اپنی متعلقہ ٹیموں کی اہلیت کو مزید بڑھانے کے لیے بھی مل جل کر سیمینار اور کانفرنس منعقد کریں گے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ ثالثی کے دائرے کو بڑھائے اور باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرے تاکہ بین الاقوامی فورمز اور ادارے زیادہ مضبوط ہوں۔ اس ناطے پاکستان تجارتی تنازعات کے حل کے لیے بھی کوشاں ہے اور اپنے ہاں سرمایہ کاری لانے کے لیے بھی کوششوں میں مصروف ہے۔پاکستان کی اسفورممیں شراکت داری روایتی عدالتی چارہ جوئی پر انحصار کو کم کرے گی۔ وزیر قانون نے کہا پاکستان اپنے ہاں تجارتی اور ٹیکسوں سے متعلق امور کو پہلے ہی عدالتوں سے باہر طے کرنے کی کوششیں شروع کر چکا ہے۔ نتیجتاً برسوں میں طے ہونے والے تنازعات اب ہفتوں میں طے ہو رہے ہیں۔











