
از: سہیل شہریار
پاکستان نے رواں مالی سال 2025-26کے اختتام تک اپنے ذمہ مجموعی طور پر 4 ارب 75 کروڑ ڈالر کی بیرونی دائیگیاں کرناشروع کر دی ہیں۔ان میں ایک ارب 30کروڑ ڈالر کی رقم یورو بانڈزاور 3 ارب 45 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم متحدہ عرب امارات کے قرض پر مشتمل ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پاکستان نے اپنے جاری کردہ یورو بانڈز کی دس سالہ مدت مکمل ہونے پر 8اپریل کو انکی ایک ارب 30کروڑ ڈالر کی مکمل ادائیگی کر دی ہے ۔اور ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کو 3.45 ارب ڈالر قرض میں سے ابتدائی 45کروڑ ڈالر کی ا دائیگی بھی کر دی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے 2 ارب ڈالر کی رقم 2018-19میں بیرونی مالی معاونت کےحصہ کے طور پر فراہم کی گئی تھی اور 2023 میں مزید ایک ارب ڈالر کے ڈپازٹس فراہم کیے گئے تھے۔ جنکی ادائیگی باقی ہے اور اس قرضے پر پاکستان سالانہ 6.5 فیصد شرح سود ادا کر رہا تھا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران ابوظہبی نے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے قرضے کی تجدید کا عمل روک رکھا ہے ۔اور اس میں ماہانہ بنیاد پر توسیع کی جارہی ہے۔ چنانچہ حکومت نے متحدہ عرب امارات کے قرض کی مکمل رقم فوری ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سے 45کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے بعد اب 2ارب ڈالر کی رقم 17اپریل کو اداکر دی جائے گی ۔جبکہ بقایا ایک ارب ڈالر بھی ایک ہفتے کے بعد 23اپریل کو ادا کر دئیے جائیں گے۔
اپنے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نہ صرف پاکستان کو اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنا ہے بلکہ آئندہ مالی سال میں انہیں موجودہ 16.4ارب ڈالر سے 18ابر ڈالر تک لے جانا ہے۔ چنانچہ زر مبادلہ کے ذخائر کی سطح کو برقرار رکھنے اور بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے تین اہم د وستوں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تقریباً 12.5 ارب ڈالر کے رول اوور کی ضرورت تھی۔ تاہم ابو ظہبی کی جانب سے رقم کی واپسی کے مطالبے پر رقم کی فوری واپسی کا سخت فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس سےملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو نمایاں طور پر کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان کےتازہ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں۔جن میں سے ساڑھے3 ارب ڈالر کی واپسی سے ان میں 18فیصد کی کمی واقع ہو جائے گی۔ جس سے بیرونی بفر اور درآمدی کور نمایاں طور پر کمی کا سامنا ہو گا۔
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ یورو بانڈ کے ایک ارب 30کروڑ ڈالر کی مکمل ا دائیگی کے بعد اسی ماہ میں متحدہ عرب امارات کے قرض کی واپسی روپے پر دباؤ بڑھا سکتی ہے ۔ اور اگر فوری طور پر دوست ملکوں اور مالیاتی اداروں سے تازہ رقوم حاصل نہ کی گئیں تویہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔
اسی ضمن میں وزارت خزانہ نے کہا ہےکہ وہ مستحکم زرمبادلہ کے ذخائر کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے بیرونی بہاؤ کی مسلسل نگرانی اور انتظام کر رہی ہے۔اورحکومت پاکستان اپنی تمام بیرونی ذمہ داریوں کو بر وقت پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔












