
از: سہیل شہریار
پاکستان کا بیرونی قرضہ سال بہ سال کی بنیاد پر جون 2025 کے آخر تک 6 فیصداضافے کے ساتھ 92 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔اور اسی دوران 16فیصد اضافے کے ساتھ اندرونی قرضہ ساڑھے 54کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ملکی قرضوں کے حوالے سے جنوری 2026 تک کےاعداد وشمارکے مطابق، مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بیرونی قرضہ 0.4 فیصد یا 0.35 ارب ڈالر سے کم ہو کر 91.4 ارب ڈالر رہ گیاتھا۔مگر مالی سال کی دوسری سہ ماہی آئی ایم ایف سمیت کثیرالجہتی ترقیاتی شراکت داروں سے قرض لینے کی وجہ سے قرضوں کے حجم میں 8.7 فیصد یا تقریباً 4 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ کمرشل بینکوں سے 1.6 ارب ڈالر کے اضافی قرضے نے بھی اس میں حصہ لیا، جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی ضمانت سے ایک ارب ڈالر کا قرض بھی شامل ہے۔
کثیر الجہتی قرض دہندگان کے واجب الادا قرضوں کا ستمبر 2025 تک کل بیرونی قرضوں میں 56فیصد حصہ تھا۔ اس کے بعد دو طرفہ شراکت داروں کے قرض کا حصہ 26فیصد تھا۔جبکہ بقیہ قرضوں میں میں 7فیصد بین الاقوامی بانڈ کے اجراء ، 8فیصدکمرشل بینکوں اور بقیہ 2فیصد میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹس سمیت دیگر شامل ہیں۔
کل عوامی قرضوں میں بیرونی قرضوں کا حصہ جون 2024 میں 34 فیصد سے گھٹ کر جون 2025 میں 32 فیصد رہ گیا۔ جو درمیانی مدت کے قرض کے انتظام کی حکمت عملی کے تحت مقرر کردہ 40 فیصد کی حد کے اندر ہے۔
اندرونیقرضہ جون 2025 تک 7,312 ارب روپے یا سال بہ سال 16 فیصد بڑھ کر 54,472 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ حالانکہ قرض کی شرح نمو پچھلے سال ریکارڈ کی گئی 22 فیصد سے کم تھی۔
مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر واجب الادا 10 کھرب روپے کا قرض واپس لینے کے حکومتی فیصلے کے بعد ملکی قرضہ 2 فیصد کم ہو کر 53,424 ارب روپے رہ گیا۔
پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور گورنمنٹ اجارہ سکوک جیسے طویل المدتی ذرائع پر مشتمل مستقل قرض، جون 2025 تک 26 فیصد اضافے سے 41,777 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
بنیادی طور پر مارکیٹ ٹریژری بلز کی شکل میںقلیل مدتی فلوٹنگقرض مالی سال 2025 کے دوران 14.5 فیصد کمی سے 8,756 ارب روپے رہ گیا اور ری فنانسنگ کے خطرات کو کم کرنے کی کوششوں کے مطابق ستمبر 2025 تک 3.4 فیصد کم ہو کر 8,400 ارب روپےپر آ گیا ہے۔اس کے ؑلاوہ قومی بچت کی اسکیموں کے ذریعے حاصل کردہ غیر فنڈ ڈقرض جون 2025 تک 8.7 فیصد اضافے سے 3,021 ارب روپے تک بڑھ گیا۔ اور یہ کل ملکی قرضوں کا تقریباً 6 فیصد ہے۔










