
از: سہیل شہریار
کیا واقعی امریکہ کا دیوالیہ نکل جائے گا؟ یہ ہے وہ سوال جو امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے بعد اب امریکی ماہرین معیشت کے مابین زیر بحث ہے۔امریکہ کے بڑھتے ہوئے قرض نے طویل عرصے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ لیکن محکمہ خزانہ کی تازہ ترین رپورٹ کے بعد، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اور یوں کہنا نا مناسب نہیں ہو گا کہ قوم اب مؤثر طریقے سے "دیوالیہ” ہے۔
امریکہ دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے جسکےمالی سال 2025 میں حکومت کے قرض میں ہونے والے 264کھرب ڈالر اضافے کےاعداد وشمار بتاتے ہیں کہ اسکے قرض کی مالیت میں روزانہ کی بنیاد پراوسطاً 7.23ارب ڈالر اورماہانہ اوسطاً220ارب ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں اپلائیڈ اکنامکس کے پروفیسر سٹیو ہینک اور سابق امریکی کمپٹرولر جنرل ڈیوڈ ایم واکر نے امریکی میڈیا میں گذشتہ روز شائع ہونے والے اپنے تجزیوں میں تکنیکی طور پرامریکی حکومت کے دیوالیہ ہوجانے کو محکمہ خزانہ کے اعداد وشامر کی روشنی میں حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسا سچ ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی ہے کہ صرف قرض کی 380کھرب ڈالر مالیت اسکے 60.6 کھرب ڈالر کے ثاثوں سے پانچ گنا سے بھی زیادہ ہے۔ جبکہحکومت کے ذمہ واجبات کا مجموعی حجم تو 1362کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔یہی نہیں امریکی حکومت اپنی آمدن سے کہیں زیادہ خرچ کرتی رہتی ہے۔ صرف گذشتہ مالی سال 2025 میں ہی کل وفاقی آمدنی 524 کھرب ڈالر جبکہ اخراجات734 کھرب ڈالر تھے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اب "مالی تباہی کا سامنا” کر رہا ہے۔ جسے دور از کار قرار نہیں دیا جا سکتا۔انکا کہنا تھا کہ اعداد و شمار واقعی تشویشناک ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ روایتی معنوں میں "دیوالیہ” نہیں ہو سکتا۔کیونکہ کسی فرد یا یا کاروبار کے برعکس امریکہ دنیا کی ریزرو کرنسی کا جاری کنندہ ہے۔ یعنی اس کے پاس اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے رقم پیدا کرنے یعنی ڈالر چھاپنے کی صلاحیت ہے۔دوسرے لفظوں میں امریکی حکومت کے پاس تکنیکی طور پر کبھی بھی ڈالر ختم نہیں ہوسکتے لیکن ڈالر تیزی سے اپنی قدر ضرور کھو سکتاہے۔اوریہ ہو رہا ہے۔ فیڈرل ریزرو بینک آف منیپولس کے مطابق 2025 میں100 امریکی ڈالرکی قوت خرید اتنی ہو چکی ہے جو 1970 میں صرف12.6ڈالر کی تھی۔ مگر امریکی معیشت کے لئے اصل خطرہ دنیا کے مختلف ملکوں کی جانب سے امریکی ڈالر سے اپنی وابستگی کو ترک کرنا ہے۔اور یہ سلسلہ یونہی آگے بڑھتا رہا تو امریکی معیشت کا دیوالیہ ہونا یقینی ہو جائے گا۔












