
از: سہیل شہریار
پاکستان دنیا کا پہلا ملک بننے جا رہا ہے جس کا خلا بازچین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر قیام اور پاکستان کے لئے مختلف تجربات سر انجام دے گا۔
چین کی انسانی خلائی ایجنسی (سی ایم ایس اے) کے ترجمان ژانگ جِن گبو نے انکشاف کیا ہے کہ چینی خلائی اسٹیشن پر جانے کے لئے دو منتخب پاکستانی خلاباز چینی خلابازوں کے ساتھ مل کر تربیت میں حصہ لیں گے۔ ان میں سے ایک پے لوڈ ماہر کے طور پرفلائٹ مشن انجام دے گا۔
ژانگ نے یہ نہیں بتایا کہ پاکستانی خلاباز کس مشن پر اڑان بھرےگا۔ تاہم وہ شین زو خلائی جہاز میں تین میں سے ایک نشست لےگا۔ اب شینزو 22 مشن تقریباً چھ ماہ کے عرصے میں لانچ ہونے والا ہے۔اور اسکا عملہ تیان گونگ پر سوار شین زو 21 کےخلابازوں کی جگہ لے گا۔
چین اور پاکستان نے رواں سال فروری میں تیان گونگ میں پاکستانی خلاباز بھیجنے کے حوالے سے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ خلابازوں کا ابتدائی انتخاب فی الحال پاکستان میں کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ثانوی اور آخری انتخاب چین میں کیاجائےگا۔جبکہ پرواز کے دوران عملے کے روزمرہ کے فرائض انجام دینے کے علاوہ پاکستانی خلا بازاپنے ملک کے لیے سائنسی تجربات بھی کرےگا۔
اگرچہ سی ایم ایس اے نے پاکستانی خلاباز کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر جانےکے حتمی وقت کی تصدیق نہیں کی ہے۔تاہم پاکستانی خلابازکے دورے کی نوعیت سے پتہ چلتا ہے کہ پہلاپاکستانی خلا باز دو چینی خلابازوں کے ساتھ شینزو خلائی جہاز میں سوار ہو کر تیان گونگ جائے گا۔ وہ کئی دن اسٹیشن پر رہے گا پھر پچھلے مشن کے تین میں سے عملے کے دو خلابازوں جنہوں نے خلا میں ا پنا روایتی چھ ماہ کا قیام مکمل کرے گا اور ان کے ساتھ زمین پر واپس آجائے گا ۔ جبکہ اس کے نتیجے میں ایک چینی خلاباز کو تیان گونگ میں مسلسل ایک سال قیام کرنے والا پہلا خلا باز بننے کا اعزاز ملے گا۔
چین کاتیان گونگ خلائی اسٹیشن تین ماڈیولز پر مشتمل ہے۔ جو 2022 کے آخر میں مکمل ہوا تھا۔ چین کا مقصد خلائی اسٹیشن کو کم از کم ایک دہائی تک آپریشنل رکھنا ہے۔ جبکہ اس خلائی اسٹیشن کے تجربے سے توقع ہے کہ یہ اپنے سےبہت بڑے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زیادہ عرصہ کار آمدرہے گا۔
پاکستان نے چین کے ساتھ مستقبل کے بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن کے منصوبےمیں بھی شراکت داری کا معاہدہ کر رکھا ہے جس کی تعمیر 2030 کی دہائی میں کی جائے گی۔












