
از: سہیل شہریار
پاکستان اور بنگلہ دیش نے اپنے دوطرفہ دفاعی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی دفاعی تعاون کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی گذشتہ ہفتے کے آخر میں ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس اور تینوں مسلح افواج کے سربراہوں سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران دونوں اطراف نے ابھرتے ہوئے عالمی اور علاقائی ماحول اور سلامتی کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور خودمختار برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا۔دونوں اطراف نے دفاعی اور سیکورٹی تعاون کو بہتر بنانے کے بارے میں امید کا اظہار کیا اور ملٹری ٹو ملٹری مصروفیات اور متعلقہ اقدامات کو وسعت دینے کے عزم کااظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بنگلہ دیش کے سرکاری دورے کے دوران جنرل مرزا نے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے علاوہ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد نظم الحسن، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان اور مسلح افواج ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (پی ایس او) لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔بنگلہ دیش کی سول و ملٹری قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو سراہا۔
https://www.youtube.com/watch?v=HnzWhUZJ-js&t=1s
اپنے دورے میںچیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس سلہٹ کا بھی دورہ کیا اور فیکلٹی اور طلباء سے بات چیت کی۔ اس سے پہلے ڈھاکہ کینٹ میں سینا کنجو پہنچنے پر ایک چاق و چوبند فوجی دستے نے جنرل مرزا کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ جنہوں نے بنگلہ دیشی فوج کے شہدا کی یادگار شیکھا انیربن پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔
گزشتہ سال اگست میں جب سے بنگلہ دیش میں عوامی بغاوت نے شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، تب سے اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان تعلقات میں نمایاں پیش رفت کے باعث تجارتی اور دوطرفہ تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔جنوری میں، پی ایس او لیفٹیننٹ جنرل حسن نے چیف آف آرمی سٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی۔جس میں دونوں نے اپنے ملکوں کے درمیان بیرونی اثرات کے خلاف ہوشیار رہنے کے لیے موثر اور پائیدار باہمی شراکت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔












