راولپنڈی ( پاک ترک نیوز) آپریشن شعبان بلوچستان سمیت خطے بھرکے امن کا ضامن،عالمی سطح پر بھی پذیرائی۔ بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے”آپریشن شعبان "میں فتنہ الخوارج ،فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کوکامیابی سے نشانہ بنایا جارہا ہے،عالمی جریدہ دی ڈپلومیٹ کے مطابق مانگی ڈیم کے قریب دہشتگردوں کے حملے کے بعد پاک فوج،ایف سی بلوچستان اور پولیس نے فتنہ الخوارج کیخلاف آپریشن شعبان کا آغاز کیا۔ فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان کیخلاف زمینی اور فضائی کارروائیوں میں سینکڑوں دہشتگردوں کوجہنم واصل کیا گیا ۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغان طالبان کے حلیف فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان نے سیکیورٹی فورسزاوربلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنایا ، آپریشن شعبان کودہشتگرد نیٹ ورکس تباہ کرنےاوربلوچستان میں ریاستی رٹ کی بحالی کیلئے طویل المدتی عسکری مہم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق آپریشن شعبان میں جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان،اس سے وابستہ علیحدگی پسند گروپوں اورشمالی اضلاع میں فتنہ الخوارج کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، فتنہ الخوارج کیخلاف جاری آپریشن شعبان کے مثبت اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے مجموعی اندرونی استحکام پر بھی مرتب ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کا امن پاک فوج سے جڑا ہے،علماء کرام
دی ڈپلومیٹ کے مطابق آپریشن سے سیکیورٹی صورتحال بہتراوربامقصد مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہےتو یہ خطے میں امن واستحکام کی بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہوگا ۔
ماہرین کے مطابق آپریشن شعبان کا آغاز اس بات کا اشارہ ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی طرف سے لاحق خطرہ اس حد تک پہنچ چکا تھا جہاں ایک بڑی کارروائی ضروری تھی۔بلوچستان کی صورتحال کوسنبھالنے کیلئے عسکری کارروائیاں ضروری ہیں لیکن اس کیساتھ ساتھ مقامی اداروں کو مضبوط بنانا اور اقتصادی ترقی بھی ناگزیر ہے۔












