انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو جہاں اپنی اسپن طاقت پر بھروسا ہوگا، وہیں انگلش کنڈیشنز میں اصل امتحان فاسٹ باؤلنگ کا ہوگا۔ اور اس امتحان میں پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار محمد عباس کو قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں ہوم گراؤنڈ پر اسپن باؤلنگ کو زیادہ اہمیت دی، جس کے باعث اس کا فاسٹ باؤلنگ اٹیک انگلینڈ کی سیم اور سوئنگ والی کنڈیشنز میں سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
چھ سال پہلے انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ جیسے نوجوان فاسٹ باؤلرز مستقبل کے ستارے سمجھے جارہے تھے۔۔۔ لیکن وقت نے پانسہ پلٹا تو آج اسی تین رکنی گروپ میں صرف محمد عباس انگلینڈ کے خلاف اسکواڈ کا حصہ ہیں۔
36 سالہ محمد عباس رفتار کے بجائے لائن، لینتھ، سیم موومنٹ اور غیر معمولی کنٹرول سے بیٹرز کو پریشان کرنے کے ماہر ہیں۔
انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں عباس کا ریکارڈ بھی ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیسٹرشائر، ہیمپشائر، ناٹنگھم شائر اور ڈربی شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ 302 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
ناٹنگھم شائر کے کوچ پیٹر مورز اور سابق پاکستانی کوچ مکی آرتھر بھی عباس کی سیم باؤلنگ اور گیند پر گرفت کے معترف ہیں۔
عباس گیند کو کبھی اندر، کبھی باہر اور کبھی وبل سیم کے ساتھ حرکت دے کر بیٹرز کو غلطی پر مجبور کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں 8 وکٹیں لینے کے باوجود عباس کو اگلے ٹیسٹ میں ڈراپ کردیا گیا۔۔۔ پاکستان نے اسپنرز پر بھروسا کیا اور ساجد خان نے 8 وکٹیں لے کر ٹیم کو سیریز برابر کرانے میں مدد دی۔
لیکن انگلینڈ کی کنڈیشنز مختلف ہیں۔ یہاں خشک پچز کے ساتھ گیند کے سیم ہونے اور سوئنگ کی توقع بھی کی جارہی ہے، ایسے میں عباس کا تجربہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان کے پاس اس وقت شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی سابقہ رفتار اور جارحیت جیسا امتزاج موجود نہیں۔۔۔ عبید شاہ اور محمد علی جیسے باؤلرز موجود ہیں، لیکن انگلینڈ میں اصل ذمہ داری عباس کے کندھوں پر آسکتی ہے۔
رفتار شاید محمد عباس کی سب سے بڑی طاقت نہیں لیکن درستگی، تجربہ اور گیند کو سیم سے حرکت دینے کا فن انہیں انگلینڈ میں پاکستان کا سب سے خطرناک ہتھیار بنا سکتا ہے۔












