سیئول (پاک ترک نیوز )جزیرہ نما کوریا میں دہائیوں سے جاری کشیدگی ختم کرنے کی نئی کوشش۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کردی۔
صدر لی نے شمالی کوریا کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے کثیر سطحی سیکیورٹی نظام تشکیل دینے کی تجویز بھی دی ہے۔
جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان جنگ 1953 میں جنگ بندی معاہدے کے بعد عملی طور پر منجمد ہوگئی تھی، تاہم دونوں ممالک نے کبھی باضابطہ امن معاہدہ نہیں کیا۔اسی وجہ سے دونوں ممالک تکنیکی طور پر آج بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کے بجائے طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات شروع کریں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی اور شمالی کوریا کو پرامن بقائے باہمی اور باہمی ترقی کے لیے آمنے سامنے بیٹھنا چاہیے۔
صدر لی نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو بھی مذاکرات کا حصہ بنانے کی پیشکش کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے ذریعے شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت میں اضافے کو روکنے کے مؤثر طریقوں پر غور کیا جاسکتا ہے۔
جنوبی کوریا اور جاپان شمالی کوریا کے مسلسل بیلسٹک میزائل تجربات کو طاقت کے اظہار اور دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی علامت ڈی ملٹرائزڈ زون یعنی ڈی ایم زیڈ بھی ہے، جہاں ماضی میں فریقین کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں کچرے اور پروپیگنڈا مواد سے بھرے غبارے بھی شامل ہیں۔
تاہم شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کی تازہ پیشکش پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پیانگ یانگ ماضی میں جنوبی کوریا کی مذاکرات اور رابطوں کی پیشکش مسترد کرتا رہا ہے، جبکہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے 2024 میں جنوبی کوریا کے ساتھ اتحاد کو ناممکن قرار دیتے ہوئے اسے اپنا ’’بنیادی دشمن‘‘ قرار دیا تھا۔
شمالی کوریا نے 2022 میں خود کو جوہری طاقت قرار دیا تھا اور اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں کم جونگ اُن سے ملاقات کرچکے ہیں اور دوبارہ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔
لیکن کشیدگی میں کمی کے بجائے شمالی کوریا نے حال ہی میں ایک اور بیلسٹک میزائل سمندر میں فائر کیا، جو رواں سال اس نوعیت کا 11واں مشتبہ تجربہ قرار دیا جارہا ہے۔







