نیو یارک ( پاک ترک نیوز) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کا ایسا نیا نقشہ اپنانے کی قرارداد منظور کرلی ہے جس میں افریقہ کا رقبہ زیادہ درست انداز میں دکھایا گیا ہے۔ٹوگو کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ امریکا نے مخالفت میں ووٹ دیا اور 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کا مقصد روایتی مرکیٹر پروجیکشن کے بجائے 2018 میں تیار کیے گئے ایکول ارتھ نقشے کو فروغ دینا ہے۔مرکیٹر نقشہ 1569 میں فلیمش نقشہ ساز جیرارڈس مرکیٹر نے سمندری سفر میں رہنمائی کے لیے تیار کیا تھا۔ تاہم اس نقشے میں خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں کا حجم نسبتاً چھوٹا جبکہ شمالی اور جنوبی قطبی علاقوں کا حجم حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا نیا 20 ڈالر کا نوٹ جاری، کنگ چارلس کی تصویر شامل
اس نقشے میں افریقہ اور گرین لینڈ تقریباً ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے نقشے سے دنیا کے مختلف خطوں، بالخصوص افریقہ کے حقیقی جغرافیائی حجم کو زیادہ درست انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ قرارداد اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے لازمی نہیں، تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں تعلیمی نصاب، ٹیکنالوجی اور سرکاری اداروں میں استعمال ہونے والے عالمی نقشوں میں تبدیلی متوقع ہے۔












