واگاڈوگو(پاک ترک نیوز ) مغربی افریقی ملک برکینا فاسو نے اپنی سابق نوآبادیاتی طاقت فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔
سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے حکومتی بیان میں کہا گیا کہ برکینا فاسو کی حکومت قومی اور بین الاقوامی برادری کو آگاہ کرتی ہے کہ اس نے 26 جون 2026 سے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک ، بنگلہ دیش کے لیے 1.1 ارب ڈالر کی ہنگامی مالی امداد منظور
برکینا فاسو میں ستمبر 2022 کی فوجی بغاوت کے بعد برسرِ اقتدار آنے والے کیپٹن ابراہیم ٹراؤرے کی حکومت نے مغربی ممالک، خصوصاً فرانس، کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔
وزیرِ مواصلات گلبرٹ اوئیدراؤگو نے کہا کہ حکومت نے پیرس کے ساتھ تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، اعتماد، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور قومی خودمختاری جیسے بنیادی اصول موجود نہیں رہے۔
انہوں نے فرانس پر الزام عائد کیا کہ وہ نوآبادیاتی عزائم رکھتا ہے اور ملک میں تخریبی نیٹ ورکس اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، جس کے باعث برکینا فاسو اور پورا ساحل خطہ بدامنی کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں فوجی حکومت نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا تھا اور ان کے اثاثے بھی ضبط کر لیے تھے، جسے مبصرین نے مغربی افریقہ میں جمہوریت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا تھا۔
خشکی میں گھرے ہوئے برکینا فاسو کو شمال، جنوب اور مغربی علاقوں میں سرگرم مسلح گروہوں کا سامنا ہے، جن میں القاعدہ سے منسلک جماعت نصرت الاسلام والمسلمین اور داعش شامل ہیں۔ یہ گروہ پڑوسی ممالک مالی اور نائجر میں بھی سرگرم ہیں اور پورے ساحل خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔







