لاہور( پاکت رک نیوز) بالٹک سمندر میں زیرِ سمندر انفراسٹرکچر کے مسلسل متاثر ہونے کے واقعات کے بعد اب نیٹو اور امریکی بحریہ نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ۔ امریکی نیوی کا ایک خودکار زیرِ آب ڈرون ایک ہفتے تک اس سمندر کی تہہ میں گشت کرتا رہا، جہاں بار بار گیس پائپ لائنز، بجلی کی تاریں اور انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون ہر چارج پر درجنوں میل تک سمندر کی تہہ کا نقشہ بنانے اور کسی بھی نئی یا مشکوک تبدیلی کو فوری شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مشن کے دوران اسے لتھوینیا کے ساحلی شہر لیپا جا کے قریب تعینات کیا گیا۔
جہاں وہ ان اہم زیرِ سمندر کیبلز اور پائپ لائنز کی نگرانی کرتا رہا جو شمالی یورپ کے توانائی اور مواصلاتی نظام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
امریکی نیوی کے یونٹ UUV گروپ 1 کے مطابق یہ مشن نیٹو کی مشق “بالٹ آپس 2026” کے دوران انجام دیا گیا، جس میں پہلی بار اس نوعیت کے خودکار زیرِ آب ڈرونز کو عملی ماحول میں آزمایا گیا۔
استعمال ہونے والا جدید ڈرون “آئیور 3” ایک ٹارپیڈو نما خودکار گاڑی ہے جو سمندر کی تہہ کی تفصیلی اسکیننگ، نقشہ سازی اور مشکوک اشیاء کی نشاندہی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ڈرون کم رفتار کے باوجود طویل فاصلے تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ایک شخص بھی آسانی سے لانچ کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس یونٹ کا مقصد زیرِ آب نگرانی، بارودی سرنگوں کی تلاش، دشمن آبدوزوں کی نگرانی اور اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت ہے، جسے اب جدید جنگ کا نیا محاذ قرار دیا جا رہا ہے۔












