لاہور ( پاک ترک نیوز) کیا مشرق وسطیٰ میں جنگ ٹلنے والی ہے ،کیا پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑی ڈیل کرا لے گیا ،وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دوروں نے عالمی سیاست میں نئی ہلچل مچا دی ۔
،وزیراعظم شہبازشریف کا سعودی عرب ،قطر اور ترکیے کے دورے سے نئی امید پیدا ہو گئی ہے ،،وزیراعظم شہبازشریف سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے ،اہم امور پر تبادلہ خیال ہو گا،دونوں کی ملاقات میں بڑا بریک تھرو متوقع ہے۔ وزیراعظم سعودی عرب کے بعد قطر اور ترکیہ جائیں گے ، دوست ممالکت سے سفارتی معاملات پر مشاورت کریں گے ،آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور امریکا ،ایران مذاکرات کے اگلے دور پر بات چیت ہو گی۔
غیر ملکی دورے سے پہلے وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا جس میں پاکستان نے ایران امریکا تنازع کے خاتمے کےلیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔،شرکاء نے سعودی عرب،ترکیہ اور قطر کے ساتھ پاکستان کے موجودہ تعلقات پر اظہار اطمینان کیا ،اجلاس میں مختلف عالمی رہنماؤں سے ہونے والے رابطوں بارے بھی آگاہ کیا گیا ۔وزارت خارجہ کی جانب سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیش کش کر دی۔پاکستان نے سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں کرنے کی تجویز پیش کی ہے، فریق معاہدے کے لیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے بعد بھی پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔ امریکی عہدے دار نے توقع ظاہر کی ہے کہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی امریکا ،ایران کے دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے پرامید ہیں ،انہوں نے کہا ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی مشرق وسطیٰ میں امن قائم کروا پائے گا؟یا یہ کشیدگی ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو جائے گی؟۔فیصلہ آنے والے دنوں میں ہو گا۔












