تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امید جاگ اٹھی۔۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں۔۔ امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے معاہدے کے نکات پر جلد اتفاق کا امکان ہے ۔۔ دونوں ملکوں میں جلد معاہدے کے نکات پر اتفاق ہو سکتا ہے ۔
العریبیہ ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران ، امریکا معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئیں پاکستان کی اہم شخصیت آج ایران کا دورہ کر سکتی ہے پاکستانی شخصیت کے دورے میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان متوقع ہے،مذاکرات کا اگلا دور عید کے بعد اسلام آباد میں ہوگا، معاہدے کے نکات کا اعلان جلد متوقع ہے ۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان بھی متحرک ہے ،وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان ،وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر جنرل احمد واحدی سے ملاقاتیں کی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ، محسن نقوی نے چند روز پہلے بھی ایران کا دورہ کیا تھا ، ایرانی صدر،چیف مذاکرات کار ،وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کی تھیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہناہے ایران امریکا مذاکرات پاکستان کے ذریعے جاری ہیں،ہم جو چاہتے ہیں وہ مطالبہ نہیں ، ہمارے حقوق ہیں، ایران کے خلاف امریکی پابندیاں ہٹا دی جائیں، جو ہمارے حقوق کا حصہ ہے۔
سعودی وزیرخارجہ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی ہے ۔۔ شہزادہ فیصل کا ایران کے ساتھ سفارت کاری کوموقع دینے کے صدرٹرمپ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا قابل قبول معاہدے تک پہنچنےکی کوشش میں صدر ٹرمپ کا فیصلہ قابل تعریف ہے، جنگ کا خاتمہ ، آبنائے ہرمز میں سلامتی اور جہاز رانی کی آزادی بحال ہونی چاہیئے۔ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے موقع سے فائدہ اٹھائے، پائیدار امن کے حصول کے لیے جامع مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور آبنائے ہرمز میں بحری تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔












