اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا جدید لڑاکا طیارہ جے ایف تھنڈر بلاک تھری اب باضابطہ طور پر آذربائیجان کی فضائیہ کا حصہ بن گیا ۔ آذربائیجان کی وزارتِ دفاع نے نئے لڑاکا طیاروں کی آمد کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں دو بلاک تھری طیارے ٹیکسی کرتے اور پرواز بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آذربائیجان نے گزشتہ سال ابتدائی طور پر 16 جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کا آرڈر دیا تھا، تاہم بعد ازاں اس تعداد کو بڑھا کر 40 کر دیا گیا۔ مجموعی دفاعی معاہدے کی مالیت تقریباً 4.6 ارب امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے، جس میں دفاعی تعاون، صنعتی شراکت داری اور انفراسٹرکچر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آذربائیجان ان طیاروں کے ذریعے اپنے پرانے سوویت دور کےمیکوائن مگ 29 طیاروں کی جگہ جدید جنگی طیارے شامل کر رہا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے جے ایف-17 طیاروں کو بحیرۂ کیسپین کے قریب واقع ناسوسنایا ایئر بیس پر تعینات کیے جانے کا امکان ہے، جسے حال ہی میں جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر کو پاکستان کے ایروناٹیکل کمپلیس اور چینی ادارے نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہےبلاک تھری ورژن میں جدید AESA ریڈار، فلائی بائی وائر فلائٹ کنٹرول سسٹم، وسیع ڈیجیٹل گلاس کاک پٹ، ہیلمٹ ماونٹڈ ڈسپلے اینڈ سائٹ سسٹم، اور طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی جدید صلاحیتیں موجود ہیں۔
طیارہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے طویل فاصلے کے میزائل، مختصر فاصلے کے میزائل، لیزر گائیڈڈ بم، اینٹی شپ میزائل اور دیگر جدید ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے چھٹی نسل کے جنگی طیارے،دنیا حیران
اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار (تقریباً ایک ہزار نو سو دس کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ جنگی آپریشنل رینج تقریباً 900 کلومیٹر ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف-17 بلاک تھری کی فی طیارہ قیمت تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر ہے، جو مغربی ممالک کے جدید لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
جے ایف-17 پہلے ہی نائجیریا اور میانمار کو برآمد کیا جا چکا ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، عراق، ازبکستان، لیبیا، سوڈان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا بھی اس طیارے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کو جے ایف-17 کی فراہمی نہ صرف پاکستان کی دفاعی برآمدات کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے بلکہ اس سے پاکستان، آذربائیجان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون بھی مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔












