بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین کے چھٹی نسل کے جنگی طیارے نے دنیا کو حیران کر دیا، چین کے تین انجنوں والے چھٹی نسل کے جدید جنگی طیارے کی نئی پروازی ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں پہلی بار اس طیارے کو انتہائی تیز رفتاری سے مڑتے ہوئے بلندی حاصل کرتے دیکھا گیا ہے۔ اس مظاہرے نے ان شکوک کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے کہ بغیر دم والے جنگی طیارے روایتی لڑاکا طیاروں جیسی چابک دستی حاصل نہیں کر سکتے۔
یہ جدید طیارہ چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن نے تیار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کے کم از کم چار فلائٹ پروٹوٹائپس تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ 26 دسمبر 2024 کو پہلی مرتبہ اس طیارے کو آزمائشی پرواز کے دوران دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق بغیر دم والے جنگی طیارے تیار کرنا انتہائی مشکل کام ہے، کیونکہ ان میں روایتی افقی دم موجود نہیں ہوتی، جو عام لڑاکا طیاروں میں توازن برقرار رکھنے، ناک کو اوپر نیچے کرنے اور تیز موڑ کاٹنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایف-15 پر ایرانی فضا میں پراسرار حملہ؟
اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے چینی انجینئرز نے جدید فلائٹ کنٹرول سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت پر مبنی کنٹرول سسٹمز اور پروں میں نصب خصوصی کنٹرول سرفیسز استعمال کی ہیں، جن کی بدولت یہ طیارہ انتہائی جارحانہ فضائی حرکات بھی انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی ویڈیو اس بات کا پہلا عملی ثبوت ہے کہ چین بغیر دم والے انتہائی چابک دست چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی تیاری میں ایک بڑی تکنیکی رکاوٹ عبور کر چکا ہے۔ اس وقت چین واحد ملک ہے جس کے پاس تین مختلف بغیر دم والے چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کے پروٹوٹائپس موجود ہیں، جن میں چینگڈو کا تیار کردہ طیارہ سب سے بڑا اور بھاری تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بغیر دم والے طیاروں کا سب سے بڑا فائدہ ان کی اسٹیلتھ صلاحیت ہے۔ افقی دم نہ ہونے کی وجہ سے ریڈار لہروں کی واپسی کم ہو جاتی ہے، جس سے طیارے کا ریڈار کراس سیکشن نمایاں طور پر کم رہتا ہے اور دشمن کے ریڈار کے لیے اسے تلاش کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
چین اس سے قبل بھی پانچویں نسل کے جنگی طیارے میں منفرد ڈیلٹا-کینارڈ ڈیزائن اور جدید فلائٹ کنٹرول سسٹمز متعارف کرا چکا ہے، جنہوں نے اس کی پروازی کارکردگی اور اسٹیلتھ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔
دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر چین اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھتا ہے تو اس کے چھٹی نسل کے جنگی طیارے 2030 کی دہائی کے آغاز میں عملی خدمت میں شامل ہو سکتے ہیں،












