شنگھائی(پاک ترک نیوز) چین نے معاشی رفتار میں سست روی کےپیش نظر چھوٹے قرض دہندہ اداروں پر نگرانی کو مضبوط بنانے کی مہم کے تحت بینکوں کی کل تعداد میں تقریباً ایک چوتھائی کمی کر دی ہے۔جس کے نتیجے میں گذشتہ ایک سال کے دوران 670چھوٹے بنکوں کو باہمی انضمام کے ذریعے بند کیا جا چکا ہے۔چین کے وسیع ریاستی کنٹرول والے بینکاری نظاممیںجس کے مجموعی اثاثے تقریباً 64 ٹریلین امریکی ڈالر ہیں۔بنکوں کے علاقائی سطح پر انضمام کا یہ عمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں قرض کی طلب میں سست روی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافہ
معتبر مالیاتی اداروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے صرف ایک سال میں اتنی بڑی تعداد میں بنکوں کی بندش سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اپنے بنکاری نظام کو اقتصادی ترقی کی سست روی کے خطرے کو کم کرنے کی طرف دھکیل رہا ہے۔فچ نے لکھا ہے کہ تقریباً سبھی دیہی بینک تھے، جو "ناقص اثاثہ کے معیار، کم سرمایہ کاری، اور گورننس کی کوتاہیوں کے ساتھ نظام کا سب سے کمزور حصہ بنے ہوئے تھے۔”روڈیم گروپ کے ایک ماہر نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر کریڈٹ کی توسیع کے بعد، "مالیاتی نظام کے مسائل اب اس ترقی کو روک رہے ہیں۔”سنگاپور میں مقیم ایک ماہر نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ یہ بندش ممکنہ طور پر "چھوٹے اداروں میں لیکویڈیٹی کے واقعات کے امکانات کو ختم کرنے” کے لئے تیار کی گئی تھی۔جبکہ دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ "اپنی الیکٹرک کاروں، ناچنے والے روبوٹس اور کوریوگرافڈ ڈرونز سے دنیامیں ہنگامہ مچانے کے باوجود چین کی معیشت نے ترقی کے تخمینوں کو کم کیا ہے۔ جس کی وجہ کمزور کھپت ہے۔












