لاہور( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا کے خودکار خلائی مشن نے مریخ پر ایسے پیچیدہ نامیاتی کاربن مالیکیولز دریافت کیے ہیں جنہیں سائنس دان مریخ پر قدیم زندگی کے ممکنہ شواہد کی تلاش میں اب تک کی اہم ترین پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ابھی زندگی کے وجود کا حتمی ثبوت نہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق اربوں سال قبل جیزیرو گڑھے میں ایک وسیع جھیل موجود تھی، جہاں دریا آ کر مٹی اور تلچھٹ جمع کرتے تھے۔ ناسا کا خودکار خلائی مشن 2021 سے اسی قدیم جھیل کے خشک فرش کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ ماضی میں زندگی کے آثار تلاش کیے جا سکیں۔
نئی تحقیق میں ماہرین کی توجہ روشن فرشتہ چٹانی مقام پر مرکوز رہی، جو قدیم ڈیلٹا کے کنارے واقع ہے۔ یہاں موجود چییاوا آبشار نامی چٹان پر پہلے بھی ایسے دھبے دیکھے گئے تھے جو زمین پر جراثیم کے چھوڑے گئے نشانات سے مشابہت رکھتے ہیں۔
خودکار خلائی مشن نے روشنی کی مدد سے دو مٹیالی چٹانوں کا تجزیہ کیا تو ان میں بڑے پیچیدہ نامیاتی کاربن مالیکیولز کی بڑی مقدار دریافت ہوئی۔ یہ ایسے بڑے اور پیچیدہ سالمات ہیں جو متعدد کاربن ایٹموں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مریخ پر اب تک دریافت ہونے والی پیچیدہ نامیاتی کاربن کی سب سے بڑی مقدار ہے۔ چونکہ کاربن زمین پر تمام جانداروں کی بنیادی ساخت کا حصہ ہے، اس لیے یہ دریافت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
سائنس دانوں کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ یہ پیچیدہ نامیاتی کاربن چٹان کی سطح پر ہی موجود تھا۔ اس کے لیے نہ سوراخ کیا گیا اور نہ ہی چٹان کو توڑا گیا، حالانکہ مریخ کی سطح شدید تابکاری اور سخت کیمیائی ماحول کی وجہ سے ایسے نازک نامیاتی مالیکیولز کو جلد تباہ کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خلا میں خفیہ جنگ شروع ،خلا میں تباہی ، سب کچھ ختم
ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے ماہرِ حیاتیات کائل اُکرٹ کے مطابق یہ مریخ پر نامیاتی مادے کی اب تک کی سب سے سطحی دریافت ہے۔
تحقیق کی سربراہ ایشلے مرفی نے واضح کیا کہ صرف پیچیدہ نامیاتی کاربن کی موجودگی سے مریخ پر زندگی ثابت نہیں ہوتی۔
ان کے مطابق یہ کاربن کئی مختلف ذرائع سے آیا ہو سکتا ہے، جن میں خلائی گرد یا شہابی پتھروں کے ذریعے مریخ تک پہنچنا، زیرِ زمین گرم پانی کے کیمیائی عمل سے بننا،یا پھر واقعی کسی قدیم جاندار کی باقیات ہونا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سوال کا حتمی جواب صرف اسی صورت مل سکتا ہے جب چییاوا آبشار سے حاصل کیے گئے نمونے زمین پر لا کر جدید تجربہ گاہوں میں ان کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے۔
یہ نمونے دو ہزار تیس کی دہائی میں زمین پر لانے کا منصوبہ تھا، تاہم امریکی مریخ سے نمونے واپس لانے کا منصوبہ منسوخ ہو چکا ہے، جبکہ چین کا مجوزہ نمونہ واپسی مشن بھی د و ہزار اٹھائیس سے پہلے روانہ نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت مریخ پر قدیم زندگی کا حتمی ثبوت نہیں، لیکن اب تک ملنے والا سب سے مضبوط اشارہ ضرور ہے کہ سرخ سیارے پر کبھی زندگی کے لیے سازگار ماحول موجود ہو سکتا تھا۔












