تہران(پاک ترک نیوز)
مشرق وسطی میں اس وقت جنگ کے سائے شدید ہوتے جا رہے ہیں مگر اس کے درمیان ایران کا ایسا کونسا خفیہ ہتھیار ہے جس نے امریکی کھربوں ڈالر کا بحری غرور خاک میں ملایا یا وہ کونسی ایسی حکمت عملی نے پینٹاگون کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔
ناظرین، مشرقِ وسطیٰ کا سمندر اس وقت خاموش ضرور ہے۔ مگر اس خاموشی کے نیچے ایک ایسی جنگ پک رہی ہے جو دنیا کی طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا خفیہ ہتھیار ہے جس نے دنیا کے سب سے طاقتور بیڑے کو روک رکھا ہے؟
یہ کوئی روایتی جنگ نہیں۔ یہ رفتار، خاموشی اور سرپرائز کا کھیل ہے۔ چند لاکھ ڈالر کی تیز رفتار کشتیاں۔ مگر ایسی ٹیکنالوجی سے لیس جو اربوں ڈالر کے جنگی جہازوں کے لیے بھیانک خواب بن چکی ہے۔ ریڈار سے غائب، سمندر کی لہروں میں چھپی، اور پھر اچانک میزائل فائر۔ ایسا حملہ جس کا جواب دینے کے لیے وقت ہی نہ ملے۔
ماہرین اسے “سوارم وار فیئر” کہتے ہیں۔ یعنی ایک ساتھ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں اہداف۔ جدید دفاعی نظام بیک وقت محدود حملے روک سکتا ہے، مگر جب ہر سمت سے آگ برسے تو سسٹم جام ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوسکتا ہے جب چند سیکنڈ کی تاخیر، اربوں ڈالر کے جہاز کو آہنی قبر میں بدل سکتی ہے۔ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں، دماغ کی ہے۔ مہنگی طاقت بمقابلہ سستی حکمتِ عملی۔ خلیج فارس کی تنگ گزرگاہ میں اگر پہلا وار ہو گیا تو دنیا کی سپر پاور کی ساکھ دائو پر لگ سکتی ہے۔
تو کیا واقعی یہ چھوٹی کشتیاں سمندر کا نقشہ بدل سکتی ہیں؟ کیا ایک غیر متناسب جنگ تاریخ کا رخ موڑنے والی ہے؟ فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ مگر کھیل شروع ہو چکا ہے۔












