تہران (پاک ترک نیوز) ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے تین اہم شرائط رکھ دیں سوال یہ ہے کہ کیا ان شرائط پر کوئی پیش رفت ہوئی؟ کیا خطے میں امن کی کوئی امید پیدا ہو رہی ہے یا صورتحال مزید پیچیدہ ہونے جا رہی ہے؟
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہناہے خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے چند بنیادی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔پہلی شرط یہ ہے خطے میں ایران کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
دوسری اہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر لگائی گئی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کو ختم کیا جائے تاکہ ملک کی معیشت کو بحال ہونے کا موقع مل سکے۔
تیسری شرط کے طور پر ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خدشات کو تسلیم کیا جائے اور مستقبل میں کسی بھی جارحانہ کارروائی سے گریز کیا جائے۔ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط عالمی ضمانتیں ہونی چاہیئں
تجزیہ کاروں کے مطابق ان شرائط پر بات چیت کا انحصار بڑی طاقتوں کے ردعمل پر ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ابھی تک ان شرائط پر واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ رابطے جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو خطے میں ایک بڑے تصادم کو روکا جا سکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔
اب نظریں عالمی سفارت کاری پر ہیں کہ آیا یہ شرائط امن کا راستہ کھولیں گی یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔












