تل ابیب (پاک ترک نیوز) ایران کی جنگ نے دہائیوں سے قائم عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کا رخ اب صرف عسکری طاقت سے ہٹ کر معدنی وسائل، ٹیکنالوجی اور تجارتی راستوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ خود کو سپر پاور کہنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا کو بھی اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ اتحادی محض ایک کال پر ساتھ نہیں دیتے بلکہ مشترکہ مفادات اور شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے سات ممالک سے جہاز بھیجنے کی اپیل ہے، جس پر اتحادیوں کا ردعمل خاصا محتاط اور ہچکچاہٹ کا شکار رہا۔
یہ جنگ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں جنگ کے اصول بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ توانائی کے مراکز، بجلی گھر اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے براہ راست اثرات عام شہریوں کی زندگی پر پڑ رہے ہیں۔
چینی نژاد کینیڈین پروفیسر جیانگ ژیچن نے امریکی پوڈکاسٹر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین کی تجارتی کشیدگی، یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال دراصل ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ اس پوزیشن میں ہوتے تو روس، چین اور ایران سمیت تمام بڑی طاقتوں کو ایک میز پر بٹھا کر ایک نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کی بنیاد رکھتے—ایک ایسا نظام جہاں باہمی احترام ہو اور امریکا ایک حاوی طاقت کے بجائے ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر سامنے آئے، تاکہ فائدہ چند لوگوں تک محدود نہ رہے بلکہ سب تک پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض مذہبی حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ، چاہے تل ابیب کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچائے، ان کے لیے مثبت ہے کیونکہ یہ ان کے عقیدے کے مطابق “مسیحا” کی آمد کی راہ ہموار کرے گی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ جنگ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے، اور دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔












