دوحہ :(پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے اور قطر میں اپنے جدید لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی رائل ایئر فورس کے جدید ٹائفون جنگی طیارے قطر پہنچ چکے ہیں، جہاں انہیں دفاعی ذمہ داریوں کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے۔
یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب خلیج کا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور بڑی عالمی طاقتیں اپنی عسکری پوزیشن مضبوط بنا رہی ہیں۔برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ قطر میں تعینات کیا گیا 12 سکواڈرن دراصل برطانیہ اور قطر کا مشترکہ فضائی یونٹ ہے، جس کا مقصد خطے میں دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق اس اقدام کا ہدف کسی جارحیت کا حصہ بننا نہیں بلکہ دفاعی تیاری اور اتحادی شراکت داری کو مستحکم کرنا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم خطے میں بڑھتی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اتحادی ممالک کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ برطانیہ خلیج کی سلامتی کے معاملے میں متحرک کردار ادا کرتا رہے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا بھی ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر خلیج کے قریب بحری اور فضائی اثاثے تعینات کر چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر اضافی فورس خطے میں موجود ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے پہلے یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا فی الحال ایران کے خلاف کسی نئی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق پالیسی میں تبدیلی نہ کی تو مستقبل میں دوبارہ سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
علاقائی مبصرین کے مطابق برطانیہ کی جانب سے قطر میں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران۔امریکا کشیدگی اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عملی عسکری تیاریوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔












